انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 245 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 245

انوار العلوم جلد 1 ۲۴۵ ہے کہ اگر ایک مذہب کو مانا جائے تو دوسرے کو ضرور ہی غلط کہنا پڑتا ہے ۔ کیونکہ یا تو انہوں نے خدا تعالیٰ کی صفات میں کچھ کمی کر دی ہے یا زیادتی ورنہ اگر غور سے دیکھا جائے تو کیا ہنود یا آریہ یا مسیحی یا یهودی یا زرتشتی جان بود جان بوجھ کر اپنے آپ کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں اور دوزخ کو دیکھتے ہوئے اس میں کودنے کی کوشش کرتے ہیں؟ بلکہ اس کے بر خلاف ہم دیکھتے ہیں تو دہریت کو چھوڑ کر باقی کل مذاہب اس طاقتور ہستی سے تعلق پیدا کرنے کے لئے کوشاں ہیں اور مختلف طریق سے اور جائز اور ناجائز و مسائل سے اسے خوش کرنے اور اپنے پر مہربان کرنے کے لئے لگے ہوئے ہیں صرف فرق اتنا ہے کہ اس کی صفات میں دھو کہ کھایا ہے اور اس لئے راستہ سے بھٹک گئے ہیں۔ ان کی مثال ایسی ہے کہ جیسے چار آدمی ایک شہر کی تلاش میں نکلیں۔ اور ایک تو ٹھیک سیدھے راستہ پر چلتا جائے اور باقی اپنی جلد بازی اور نانی کی وجہ سے اصل جہت کو چھوڑ کر دوسری راہیں اختیار کریں اور ان میں سے کوئی شمال کو چلا جائے کوئی جنوب کو چلا جائے اور کوئی مشرق کو چلا جائے۔ پس اس میں شک نہیں کہ یہ سب اس شہر کی تلاش میں سرگرداں و کوشاں ہیں۔ لیکن یہ فرق ہو گیا ہے کہ ایک تو ان نشانات پر جو بتائے گئے تھے چلا جاتا ہے اور آخر منزل مقصود کو پہنچ بھی جائے گا۔ مگر باقی تین نے اپنی طرف سے کچھ ایسی باتیں ان نشانات میں ملالیں کہ اصل راستہ سے بھٹک کر کہیں کے کہیں چلے گئے ۔ اور اگر اصل راستہ کی طرف نہ لوٹے تو ضرور ہے کہ اسی طرح چلتے چلتے مر جائیں گے اور منزل مقصود کو نہ پائیں گے مگر اس میں کچھ شک نہیں کہ ان کو بھی اس شہر تک پہنچنے کی تڑپ ہے۔ اس طرح موجودہ مذاہب میں سے بچے مذہب کو چھوڑ کر (خواہ وہ کوئی مذہب ہو) باقی سب مذاہب کے پیرو گو خداتعالیٰ سے ملنے کی تڑپ رکھتے ہیں مگر وہ نشانات جو ان کو اس کے ملنے کے لئے بتائے گئے تھے (یعنی اس کی صفات) ان میں انہوں نے ایسی خود ساختہ باتیں ملالی ہیں کہ اب وہ اصل راستہ سے بھٹک کر کہیں کے کہیں نکل گئے ہیں اور ان آلائشوں کی وجہ سے جن میں آلودہ ہو گئے ہیں زمین و آسمان کے خدا کو چھوڑ کر اپنے خیالات کے بموجب کچھ اور خدا تجویز کر کے ان کے پیچھے لگ گئے ہیں اور ان کی مثال ان بکریوں کی ہے کہ جنہوں نے رات کے وقت اپنے مالک کے قدموں پر چلنا ترک کر دیا اور ادھر ادھر ہو گئیں اب چور ان کو بلاتا ہے اور وہ اس کے پیچھے لگ جاتی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ وہ اس کا مالک ہے مگر صبح سے پہلے وہ ان کو قصاب کے سپرد کر دے گا اور آئندہ ان کو اپنا گھر دیکھنا نصیب نہ ہو گا۔ چنانچہ اس دھوکے میں پڑ کر کسی نے تو محبت کے جوش میں برہما، وشنو ، کرشن اور رام چندر نجات