انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxvi of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page xxvi

انوار العلوم جلدا 14 تعارف کتب دلیل چہارم: جب ہم جانتے ہیں کہ ہر فعل کا کوئی فاعل ہے تو اتنی بڑی کائنات کیا ہمیں کسی فاعل کا پتہ نہیں دیتی یقینا یہ اپنے صانع یعنی خدا کا پتہ دیتی ہے۔ پہنچے دلیل پنجم : اس کائنات میں ایک تناسب بھی خدا تعالیٰ کی ہستی پر دلیل ہے۔ یعنی مختلف ضروریات کے لئے سورج چاند ، بارش وغیرہ کا ایک نسبت سے آنا۔ اسی طرح کان کو پیدا کر کے آواز کو پیدا کیا۔ اور ایک ایسا نظام پیدا کیا جو بغیر کسی خرابی کے مسلسل چل رہا ہے یہ یقینا ہستی باری تعالی کی بہت بڑی دلیل ہے۔ دلیل ششم: قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے منکر ہمیشہ ذلیل و رسوا ہوا کرتے ہیں۔ جیسے فرعون ہلاک ہوا اور اللہ کے ماننے والے کامیاب ۔ اگر کوئی خدا نہیں تو یہ تائید و نصرت کہاں ہے آتی ہے ؟ دلیل هفتم : اللہ تعالیٰ کی ہستی پر حقیقی ایمان لانے والے ہمیشہ کامیاب ہوتے ہیں۔ جیسے حضرت رام چندر ، حضرت کرشن ، حضرت موسی ، حضرت عیسیٰ اور آنحضرت ا ان لوگوں کی شدید مخالفت ہوئی لیکن بالآخر یہی کامیاب ہوئے اور ان کے دشمن ذلیل و رسوا ۔ دلیل ہشتم: دعاؤں کا قبول ہونا بھی بستی باری تعالی پر ایک دلیل ہے یعنی جب اس کا کوئی بندہ مضطر ہو کر اسے پکارتا ہے تو وہ اس کا جواب دیتا ہے اور ہر زمانے میں اس کے نظارے نظر آتے ہیں۔ جیسے خدا نے فرمایا اجيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ (البقره: ۱۸۷) دلیل نہم: نویں دلیل وجود باری کی قرآن شریف سے الہام معلوم ہوتی ہے۔ یہ ایک عظیم الشان دلیل ہے جو خدا کے وجود کو یقینی طور پر ثابت کر دیتی ہے۔ اس کے ذریعہ خدا تعالیٰ غیب کی خبریں دیتا ہے جو عالم الغیب خدا کی ہستی پر دلیل بن جاتی ہیں۔ قرآن شریف کی پیش گوئیاں بھی اس ضمن میں خدا کو منوانے کے لئے کافی ہیں۔ دلیل دہم : دسویں دلیل اس آیت میں بیان ہوئی ہے۔ وَ الَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت : ۱۷۰) یعنی جو لوگ ہمارے متعلق کوشش کرتے ہیں ہم ان کو اپنی راہ دکھاتے ہیں۔ اگر دل میں سچائی کی طلب ہو اور انسان گڑ گڑا کر ہدایت طلب کرے تو خدا خود راہنمائی کر دیتا ہے۔