انوارالعلوم (جلد 1) — Page 227
انوار العلوم جلد | ۲۲۷ نجات طریق سے اپنے مذہب میں شامل کرنے کی فکر میں لگے رہتے ہیں۔ ایک بات اس جگہ پر اور قابل غور ہے کہ اگر مسیحی صاحبان فرما دیں کہ یہاں تو صاف لفظ آیا ہے کہ پہلے اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس جاؤ ۔ اس میں سے ہمیشہ کی ممانعت کہاں سے نکال لی۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت سے ، ب یہ ہے کہ اس آیت سے یہ ضرور نکلتا ہے کہ جب تک یہودیوں کی کھوئی ہوئی بھیڑوں میں منادی نہ ہو جائے تب تک غیر قوموں میں منادی نہ کی جائے۔ اب اس کی دو ہی صورتیں ہیں۔ یا تو اس کے یہ معنی ہیں کہ ان کو جب تک اپنے اندر شامل نہ کر لو تب تک دو سرے لوگوں کی طرف رخ نہ کرو۔ اور یا یہ معنی ہیں کہ انہیں ایک دفعہ خبر دیدو کہ آسمان کی بادشاہت نزدیک ہے۔ اور پھر تمہارا کچھ فرض نہیں۔ سو ہم دیکھتے ہیں کہ یہ دونوں معنی لے کر بھی مسیحیوں پر سے الزام دور نہیں ہوتا۔ کیونکہ اگر یہ معنی لئے جائیں کہ جب تک یہودی مان نہ لیں اس وقت تک غیر قوموں میں تبلیغ نہ کی جائے تب بھی مسیحیوں پر اعتراض ہے کہ اب تک یہودی دنیا میں باقی ہیں۔ جب تک وہ کل کے کل تمہاری منادی میں نہ آجائیں۔ تب تک غیر قوموں میں منادی کرنا سراسر نا جائز ہے۔ اور یسوع کے حکم کے ماتحت جب تک ایک یہودی بھی صفحہ دنیا پر موجود ہے ۔ تب تک مسیحی کسی اور کو اپنے مذہب کی تلقین نہیں کر سکتے۔ پس ان کا ہم لوگوں کو ابھی انجیل سنانا قبل از وقت ہے۔ پہلے اپنے خدا کے اکلوتے بیٹے کے حکم کے ماتحت کل یہودیوں کو مسیحی بنالیں تو پھر ہماری طرف رخ کریں۔ اور اگر اس کے یہ معنی لئے جائیں کہ نہیں صرف ایک دفعہ منادی کر دینی ہی کافی تھی۔ آگے کوئی مانے یا نہ مانے۔ اس سے کچھ غرض نہیں۔ یہ اس کی اپنی دیانت اور امانت پر منحصر ہے۔ تو پھر بھی یہ اعتراض پڑتا ہے کہ یسوع کی کھوئی ہوئی بھیڑیں تو وہ تھیں کہ جن کو بخت نصر یروشلم کے علاقہ سے لے گیا تھا۔ چنانچہ بائبل پڑھنے والوں سے مخفی نہیں ہے کہ اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے۔ اور وہ تمام ملک شام اور اس کے آس پاس پھیلے ہوئے تھے۔ چنانچہ جب ان میں شرار میں حد سے زیادہ بڑھ گئیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے حدود کو انہوں نے توڑ دیا ۔ اور دنیا میں بجائے امن قائم کرنے کے فساد مچانے لگے ۔ تو بابل کا بادشاہ بخت نصران پر حملہ آور ہوا۔ اور خدا نے اس کے ہاتھوں ان کو سزادی چنانچہ بخت نصر ان کے دس قبیلوں کو پکڑ کر اپنے ساتھ لے آیا ۔ اور ان کو افغانستان وغیرہ ممالک میں پھیلا دیا (چنانچہ افغان اور کشمیری انہیں کی نسلوں میں سے ہیں) اور یروشلم اور اسکے گرد و نواح میں صرف دو قبیلے رہ گئے ۔ سو وہ دس قبیلے جو بخت نصر کی قید میں پڑ کر اپنے وطن سے دور جا پڑے ۔ وہ بنی