انوارالعلوم (جلد 1) — Page 226
انوار العلوم جلد 1 ۲۲۶ نجات آریوں کی نسبت دیکھنا ہے کہ کیا ان کے مذہب نے انہیں دوسرے لوگوں کو اپنے اندر شامل کرنے کی اجازت بھی دی ہے یا نہیں۔ اگر نہیں تو پھر آریوں سے بھی ہم کو بحث کرنے کی کوئی ضرورت نہیں رہتی۔ پس نجات کے سوال پر بحث ہی تب ہو سکتی ہے کہ اول یہ سوال حل کیا جائے کہ یہ تینوں مذاہب، تبلیغ عام کے مجاز بھی ہیں یا نہیں۔ اگر ان میں سے کوئی مذہب تبلیغ عامہ کا مجاز نہیں تو پھر وہ ان مباحثات میں شامل نہیں ہو سکتا۔ اس لئے اول تو ہم مسیحیوں کی کتاب انجیل میں دیکھتے ہیں کہ کیا ان کو عام منادی کی اجازت بھی ہے یا نہیں۔ جس کے بعد پھر نجات کے مسئلہ پر بحث کی ضرورت ہوگی۔ انجیل سب دنیا کے لئے نہیں ہوں میں مسیحیت کو دیکھتا ہوں کہ اس کے متعلق یسوع کا کیا ہے رمذاہب جائے یا نہ ۔ سو اول ہی جو حکم مجھے انجیل میں نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ میچ کچھ واعظ مقرر کرتا ہے اور ان کو حکم کرتا ہے کہ "غیر قوموں کی طرف نہ جانا اور سامریوں کے کسی شہر میں داخل نہ ہونا۔ بلکہ پہلے اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس جاؤ ۔ اور انہیں منادی کرو۔ اور کہو کہ آسمان کی بادشاہت نزدیک آئی امتی باب ۱۰ آیت ۷٬۶۵) چنانچہ اس آیت سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ یسوع نمبر قوموں میں منادی کو نا جائز سمجھتا ہے کیونکہ وہ حواریوں کو خاص طور سے منع کرتا ہے کہ تم یہودی قوموں میں ہی منادی کرو مگر غیر قوموں میں مت جاؤ ۔ گویا کہ وہ ایسے نجس اور ناپاک لوگ ہیں کہ ان کو اپنے مذہب کی تلقین کرنی تو الگ رہی ان کے پاس جانے سے بھی انسان ناپاک ہو جاتا ہے۔ اس لئے جس قدر ممکن ہو ان سے دور رہنا ہی مناسب اور پسندیدہ ہے۔ پس جبکہ یسوع ہی غیر قوموں کی نسبت یہ حکم پاس کرتا ہے تو پھر آج مسیحی صاحبان کا کیا حق ہے کہ وہ اس پیغام کو جو یسوع خاص بنی اسرائیل کی گم شدہ بھیڑوں کے لئے لایا تھا کل دنیا کے سامنے پیش کریں۔ یسوع کی اس طرح خاص طور سے تاکید سے معلوم ہوتا ہے کہ حواریوں کی عادات اور مزاجوں سے اسے اس قسم کا خوف ضرور تھا کہ یہ لوگ جرأت کر کے غیر مذاہب والوں کو بھی کہیں وعظ نہ شروع کر دیں۔ سو اس نے اس خرابی کو روکنے کے لئے شروع میں ہی نصیحت کر دی کہ دیکھنا غیر مذاہب کے لوگوں میں جاکر نصیحت مت کرنا اور میری تعلیم کو ان کے سامنے مت پیش کرنا بلکہ یہی نہیں ان کے پاس تک نہ پھٹکنا پھر تعجب کی بات ہے کہ جب یسوع کا یہ فیصلہ ہے تو پھر پادری صاحبان کس برتے پر دنیا میں انجیل کی منادی کرتے پھرتے ہیں۔ اور لوگوں کو جائز و نا جائز