انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 219 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 219

انوار العلوم جلد 1 بسم الله الرحمن الرحیم ۲۱۹ نجات محمدہ و نصلی علی رسوله الكريم نجات کا فلسفہ میں اس مضمون کے شروع کرنے سے پہلے اس قدر لکھ دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ چونکہ تمہید اس وقت غیر مذاہب کو اپنے مذاہب کی طرف بلانے والے تین ہی گروہ ہیں۔ اول مسلمان دوم مسیحی اور سوم آریہ اس لئے میں اس مضمون میں سب سے پہلے فلسفہ نجات پر جو کچھ اسلام نے روشنی ڈالی ہے۔ اس کو ایک حد تک مفصل بیان کروں گا۔ اور بعد ازاں مختصر طور سے غیر مذاہب کے بیانات پر کچھ تنقید کروں گا۔ اور سچے اسلام کی سچائی ثابت کرنے کے بعد غیر مذاہب کے دلائل کو توڑنے کی چنداں ضرورت بھی نہ ہوگی۔ کیونکہ جب اسلام کا دعوئی دلائل قطعیہ سے ثابت ہو گیا۔ تو پھر دوسرے مذاہب آپ ہی باطل ہو گئے ۔ اتنا لکھنے کے بعد میں دو امر اور بھی کھول دینے ضروری سمجھتا ہوں۔ دعوی با دلائل ہو دعاوی کی بناء ایک الهای کتاب پر رکھتے ہیں کہ جس کی نسبت ان کا یقین اول تو یہ کہ تینوں مذاہب جن کا میں ذکر کر آیا ہوں اپنے خیالات اور پور واثق ہے کہ وہ خدائے علیم و خبیر کی طرف سے ہے۔ پس جبکہ تینوں مذاہب کا یہی خیال ہے اور وہ اس پر ا پر پکے ہیں اور جو ان کی کتار ن کی کتاب پر شک کرے اور اسے جھوٹا۔ جھوٹا کہے وہ اس کو دروغ گو اور نا د نادان کہتے ہیں۔ تو پھر ضروری ہے کہ ہر ایک مدعی اپنے مذہب کی طرف جو کچھ منسوب کرے اس کا دعوی اور دلیل اسی الہامی کتاب میں سے پیش کرے۔ کیونکہ جب وہ کتاب اپنے اندر کامل ہو اور ہر فتم کے دعاوی جو اس مذہب کے قیام کے لئے ضروری ہوں اس کے اندر موجود ہوں۔ اور نہ صرف دعاوی ہی بلکہ دلائل بھی وہ خود ہی دیتی ہو ۔ کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک بات خدا تو بھول گیا اور اپنی کتاب میں درج کرنے سے قاصر رہا مگر انسان اس کی مدد کے لئے اٹھا۔ اور اس نے اس