انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 217 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 217

انوار العلوم جلد ! بسم الله الرحمن الرحیم ۲۱۷ نجات محمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم دیباچه مسیحیوں کی طرف سے ہمیشہ اعتراض ہوا کرتا ہے کہ نجات کی حقیقت کو ہی غیر مذاہب کے لوگ نہیں سمجھتے تو پھر اس کے حصول کے ذرائع ان کو کیونکر معلوم ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ جو چیز کسی کو معلوم ہی نہ ہو ۔ وہ اس کے حاصل کرنے میں کامیاب کیونکر ہو سکتا ہے مثلاً ایک شخص نہیں جانتا کہ وکالت کا کوئی امتحان ہوتا ہے تو پھر وہ اس کے پاس کرنے کی تیاری کیونکر کر سکتا ہے ۔ یا اگر کسی کو یہ بھی معلوم ہو کہ وکالت کا امتحان ہوتا ہے مگر وہ یہ نہ جانے کہ اس میں کیا کچھ پڑھایا جاتا ہے اور کون کون سی کتاب کا مطالعہ کرنا پڑتا ہے تو ایسے شخص سے اس کے پاس کرنے کی کیا امید ہو سکتی ہے۔ مرض کا علاج تب ہی ہوتا ہے کہ جب مرض کی تشخیص بھی ہو چکی ہو ۔ اگر کوئی مرض کی حقیقت سے ہی نا واقف ہے تو پھر اس کا علاج کیا خاک کرے گا۔ پس اس اعتراض کے ماتحت وہ کل مذاہب کو رڈ کرتے اور ان کے پیرووں کی بیوقوفیوں پر ہنستے ہیں۔ مگر دعوئی اور دلائل میں بڑا فرق ہے۔ ایک انسان دعوئی تو بہت کر سکتا ہے مگر ثبوت ہر ایک دعوی کا مشکل سے لا سکتا ہے۔ مگر ثبوت کے بغیر تو دعووں کی کچھ وقعت نہیں ہوتی۔ اس لئے اگر پادری صاحبان ہم پر نہیں تو ہم بھی بقول حضرت نوح علیہ الصلوٰۃ والسلام میں کہیں گے کہ إِنْ تَسْخَرُ وا مِنَّا فَإِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُونَ (هود: 6) مگر چونکہ نجات کا مسئلہ ایک مہتم بالشان مسئلہ ہے اس لئے میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں رسالہ تشحید الاذہان میں سلسلہ وار ایک مفصل مضمون لکھ کر اس پر کچھ روشنی ڈالوں اور ثابت کروں کہ جو نجات کی حقیقت اسلام نے بتائی ہے کوئی مذہب اس تک نہیں پہنچ سکا اور یہ کہ کل مذاہب اس معاملہ میں بہت حد تک غلطی پر ہیں ۔ وَمَا تَوْفِيقِنَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ ۔