انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 206 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 206

انوار العلوم جلد 1 ۲۰۶ دین حق اپنے اندر ایک ایسی طاقت رکھتا ہو کہ ان تمام رکاوٹوں کو جو انسان اور خدا کے درمیان حائل ہوں دور کر دے اور اپنے ماننے والے کو گناہوں سے نکال کر نیکی اور تقوی کے دریا میں غوطہ دے اور کمزور انسانوں کو ایسی طاقت عنایت کرے کہ وہ شیطان کے پنجہ سے بالکل نکل جائیں اور اس کا ان پر کوئی تسلط نہ رہے اور ان کے دلوں میں رعب حق اس قدر بٹھائے کہ وہ گناہوں کے پھندوں کو مکڑی کے جالوں کی طرح توڑ پھوڑ کر آزادی کی ہوا کھانے لگیں اور خدائے تعالیٰ کی محبت اور عشق کو ان کے قلوب میں ایسا قائم کر دے کہ گویا انسان ہر وقت خدائے تعالیٰ کی معرفت میں ڈوبا ہوا ہو اور نور ایمان کی روشنی سے اس کی زیارت میں مشغول ہو اور صفائی باطن کی آنکھوں سے اس کو دیکھ رہا ہو اور مخلوق کو خدائے تعالیٰ میں ہو کر مشاہدہ کرتا ہو اور ہمد ردی بنی نوع ہر گھڑی اس کے مد نظر ہو غرض کہ فنافی اللہ ہو جائے اور وہ زندگی اس کو نصیب ہو کہ وہ ہر ایک چیز کو اپنی آنکھوں سے نہیں بلکہ خدا کی آنکھوں سے دیکھے ۔ اور جو مذہب ایسا نہ کرتا ہو اور اس میں یہ طاقت ہی نہ ہو کہ وہ انسان کو جو ہر وقت محبت کی تلاش میں رہتا ہے خدا کی دائمی محبت کے چشمہ سے پانی پلائے اور اس سوز فراق کو جو محب کو اپنے محبوب کی جدائی میں ہوتا ہے وصل کی ٹھنڈک سے سرد کرے اور طالب کو مطلوب کا پتہ دے اور گمراہ کو ہدایت دے اور بھولے بھٹکوں کو راہ پر لائے اور طالبان دید کو معرفت تامہ کی آنکھوں سے خدائے تعالی کا دیدار کرائے اور اس بچی صفات کو بیان کر کے مخلوق کے دلوں میں ان کی محبت کا ایک ولولہ پیدا کر دے اور ایک ایسی آگ لگادے کہ جو دلوں کو پھونک دے اور سینوں کو جلا دے اور دنیا و مافیہا کو خاک کر کے خدا ہی خدا کا جلوہ انسان کی آنکھوں میں ظاہر کر دے اور دنیا کے سامنے وہ تجاویز پیش کرے کہ جن سے فساد دور ہوں اور دشمنیاں جاتی رہیں اور کینہ اور بغض کی آگ بھسم ہو جائے۔ اور بنی نوع انسان کے لئے وہ امن کا دروازہ کھولدے کہ جس سے ان پر انعامات و کرامات الہیہ کی ہوائیں خوشگوار رنگ میں محبت کی خوشبو کو ساتھ لئے ہوئے چلیں اور وہ اپنے کانوں سے اس محبوب حقیقی کی شیریں آواز کو سنیں کہ جس کی ملاقات کی تڑپ مخلوقات کے دلوں میں روز ازل سے لگی ہوتی ہے تو ایسا مذہب جھوٹا ہے اور وہ قطعا خدا کی طرف سے نہیں کیونکہ اس میں اس یا ریگانہ کی طرف سے کوئی نشان موجود نہیں۔ وہ مردہ ہے اس کو اختیار کر کے کوئی کیا کرے کیونکہ وہ انسان کو خدا سے ملاتا نہیں بلکہ دور کرتا ہے اور بنی نوع انسان کی حفاظت نہیں کرتا بلکہ اس کو مصیبت میں ڈالتا ہے اور خود اس کے پیروؤں کو اس کی حفاظت کرنی پڑتی ہے۔ :