انوارالعلوم (جلد 1) — Page 205
انوار العلوم جلد ! بسم الله الرحمن الرحیم ۲۰۵ دین حق محمدہ و نصلی علی رسوله الكريم دین حق اس وقت جو میں یہ مضمون لکھنے لگا ہوں اس سے میری یہ غرض نہیں کہ کسی مذہب کی برائی بیان کروں یا کسی فرقہ کے اصول پر نکتہ چینی کروں یا کسی گروہ کی عیب گیری کروں یا کسی جماعت کی کمزوری آشکار کروں یا کسی سلسلہ کے نقائص پر روشنی ڈالوں بلکہ اس مضمون سے میری غرض اور نشاء اور ارادہ اور خواہش اور تمنا اور مدعا یہ ہے اور صرف یہی ہے کہ طالبان حق کے سامنے اس سچائی اور حقیقت اور معرفت اور روشنی اور نور کو ظاہر کروں جو ایک مردہ کو زندہ کرتا ہے اور اندھے کو آنکھیں بخشا ہے اور بہرے کو کان عنایت کرتا ہے اور بیمار کو شفا دیتا ہے اور جو بحر گناہ میں ڈوبنے والے کو قعر ضلالت سے نکال کر صداقت کے سورج کی تپش میں لا بٹھاتا ہے اور اندھے کنویں میں گرے ہوئے انسان کو معرفت الہی کے پہاڑوں کی بلند چوٹیوں پر لا کر کھڑا کر دیتا ہے۔ اور وہ اسلام ہے کہ جس کی بدولت ہزاروں نہیں لاکھوں وحشی درندوں سے انسان اور انسان سے با خدا انسان بن گئے ۔ یہی وہ چشمہ ہے کہ جس سے بے انتہا مخلوقات نے نہ صرف اپنے گلوں کو تر کیا اور شدت پیاس کو بجھایا بلکہ اپنے عزیزوں اور کنبہ داروں اور قریبیوں اور دوستوں اور آشناؤں اور واقفوں کو بھی میر کیا۔ اس پاک مذہب کے دستر خوان پر جو بیٹھا اس نے انعامات الہیہ کے لطیف اور لذیز کھانوں کو چکھا ہی نہیں بلکہ ان سے سیر ہوا۔ غرض لاکھوں نہیں کروڑوں نے اس مذہب میں داخل ا ہو کر اپنی زندگی کا اصل مدعا پا لیا اور اس خالق حقیقی کے بے انتہا فیوض و برکا و برکات سے حصہ لیا کہ جن کو طالبان حق اپنے مال اپنی جان اپنی عزت اپنی آبرو اور اپنی بڑائی سے بھی زیادہ عزیز رکھتے ہیں اور جن کی خواہش میں لاکھوں باصفا انسان دنیا و مافیہا کو چھوڑ کر دیوانہ وار پھرتے ہیں۔ یہ بات ظاہر ہے اور ہر ایک شخص اسے سمجھ سکتا ہے کہ سچا مذہب و ا مذہب وہی ہے جو خدائے تعالیٰ تک مخلوق کی رہنمائی کرنے اور اس درمیانی پر وہ کو اٹھا دے جو عابد و معبود میں حجاب کا کام دیتا ہے۔ اور