انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 200 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 200

انوار العلوم جلد 1 ۲۰۰ نجات دسمبر 1909ء ضرور ہے کہ باقی دونوں خدا بھی مرے رہے ہوں کیونکہ ایک تین ہے اور اگر وہ نہ مرے ہوں تو رو خدا باقی رہ گئے ہوں گے اور اس طرح خداؤں میں جدائی لازم آئے گی جو کہ تین ایک اور ایک علاوہ ازیں تین کے مسئلہ کے برخلاف ہو گا اور اگر کہا جائے کہ نہیں اصل میں خدا تینوں ہی زندہ رہے تھے وہ ایک اور ہی کاروائی تھی تو پھر بھی کفارہ باطل ہو جاتا ہے اور خد انعوذ باللہ بہانے باز ٹھہرتا ہے۔ ازیں کفارہ کے مسئلہ سے یہ معلوم ہوتا۔ ہوتا ہے کہ خدا تو عادل ہے کیا یسوع عادل ہے؟ اور یسوع عادل نہیں پس یا خدا ناقص ہوا یا یسوع - علاوہ ازیں دونوں کی مختلف صفات مان کر دو وجود الگ الگ ماننے پڑتے ہیں کہ یہ خدا ہے جو عادل ہے اور یہ یسوع ہے جو محبت ہے سو اس طرح ایک تین اور تین ایک نہیں رہتا اور خداؤں میں فرق لازم آتا ہے۔ علاو از میں کفارہ پر یہ بھی ایک اعتراض ہے کہ اگر کفارہ پر ایمان لانے کے باوجود بھی عمل کی ضرورت ہے تو وہ کفارہ کفارہ ہی نہ رہا کیونکہ اس صورت میں مسیح کی موت سے ہم کو کچھ فائدہ نہ ہوا۔ اور اگر عمل کرنے کی ضرورت نہیں تو کفارہ سے گناہ پھیلیں گے نہ کہ رکیں گے اور اس طرح کفارہ گناہ پھیلانے والا ثابت ہو گا۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ کفارہ پر ایمان لانے سے گناہ ہوتے ہی نہیں تو یہ بھی غلط کیونکہ جس قدر گناہ یورپ میں ہو رہا ہے اس قدر نہ پہلے ہوا نہ اب غیر قوموں میں ہے کہا جاتا ہے کہ ساٹھ فیصدی حرامی بچے پیدا ہوتے ہیں پھر کفارہ کا کیا اثر ؟ یسوع کے کفارہ پر ایمان لا کر دنیا نے گناہوں سے کیا بچنا ہے : جو کچھ کیا یسوع کامل نمونہ تھا۔ انجیل پیش کرتی ہے اس سے تو خود یسوع پر بھی سو سو اعتراض وارد ہوتے ہیں اور وہ قابل تقلید کیا قابل نفرت ٹھہرتا ہے۔ اور اس طرح مسیحیوں کا یہ کہنا بھی کہ دنیا کو نمونہ کی ضرورت ہے اور یسوع نمونہ بن کر آیا غلط ہو جاتا ہے کیونکہ اس کے نمونہ کو دیکھ کر تو اور بھی شکوک شروع ہو جاتے ہیں کہ جب خدا خود گناہوں سے نہیں بچ سکتا تو بندے بیچارے کس حساب ہیں۔ وہ خود بھی بیچارہ کہتا۔ خود بھی بیچارہ کہتا ہے کہ مجھے نیک مت کہو۔ پس یا تو اسکو جھوٹا قرار دویا ٹا قرار د ویا گناہ گار دونوں صورتوں میں قابل تقلید نہیں۔ مسیحی صاحبان یہ بھی کہتے ہیں کہ چونکہ گناہ آدم کے ورثہ میں آیا ہے اور یسوع کا باپ نہ تھا اس لئے معلوم ہوا کہ وہ گناہ گار نہیں ہو سکتا تھا تو اس کا جواب اول تو یہ ہے کہ یسوع کی لائف اس پر خوب روشنی ڈالتی ہے دوسرے سوال یہ ہے کہ آدم میں گناہ کہاں سے آگیا اگر آدم میں پیدا ہو سکتا تھا تو دوسرے آدمیوں میں اسے پیدا ہوتے کیا ہرج ہے چوتھے یہ کہ اس سے مسیح کی فضیلت نہیں نکلتی بلکہ الٹا نقص نکلتا ہے کیونکہ توریت ہم کو بتاتی ہے کہ اصل گناہ