انوارالعلوم (جلد 1) — Page 199
انوار العلوم جلد | ۱۹۹ نجات و سمبر 1909ء یہ وقت گزر جائے پس کیا اس کرب و اندوہ ظاہر کرنے والے کو کہا جا سکتا ہے کہ وہ خوشی سے تمام دنیا کے گناہ اپنے کندھے پر اٹھا کر پھانسی پر لٹک گیا ؟ پھر یہ نہ بھی ہو تو کیا کبھی ہو سکتا ہے کہ ایک کے سر میں درد ہو تو دوسرا اپنے سر پر پتھر مارے یہ کبھی نہیں ہوتا جو گناہ کرتا ہے وہی پکڑا جاتا ہے ورنہ کفارہ سے تو معلوم ہوا کہ خدا کو سزا دیتے ہوئے مزہ آتا ہے یہ نہ سمی وہ سہی مگر کوئی نہ کوئی ہونا چاہئے کہ جس کو وہ سزا دے۔ ہاں ایک بات اور بھی ہے کہ اگر شیطان کا سر کچلا گیا اور مسیح کفارہ ہوئے تو خود شیطان اور قاتل یہود کیوں نہ کفارہ سے مستفید ہوں۔ انبیاء بائبل کفارہ سے ناواقف تھے علاوہ اس کے یسوع کے نزول سے پہلے لوگوں کا کیا حال ہو گا وہ بیچارے تو سب جہنمی ہوئے جن میں کہ موسی اور داؤد بھی شامل ہیں ۔ پھر کیا خدا پر الزام نہ آیا کہ اگر بیٹے کو پھانسی دینی ہی تھی تو شروع میں دیتا اور نہ کہ دنیا کے خاتمہ پر اور یہ بھی غلط ہے کہ وہ کفارہ پر ایمان لائے تھے کیونکہ اول تو تو ریت میں اس کا کوئی ذکر نہیں دوسرے حضرت یوسف کے ایک قول سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو کفارہ پر نہ صرف ایمان ہی نہ تھا بلکہ اس کو ظلم قرار دیتے تھے چنانچہ جب بنیامین کے بورے میں پیالہ نکلا تو یہودا نے کہا کہ ہم بھی اپنے آپ کو گناہ میں غلام بناتے ہیں مگر یوسف نے کہا کہ خدا نہ کرے کہ میں ایسا کروں اور جب وہ اس قدر زاری کر رہے تھے تو وہ یوسف کو یسوع کے کفارہ کی یاد دلا کر ایسا کر سکتے تھے کہ اپنے میں سے ایک کو اسکے بدلے میں چھوڑ جائیں اور بنیامین کو لے جائیں۔ علاوہ اس کے کفارہ پر ایک یہ اعتراض بھی پڑتا ہے کہ یسوع جہنم میں تین دن کیوں رہا خدا نے لوگوں کو تو گناہوں کے بدلہ میں ابد الآباد کی سزا دی اور اپنے بیٹے کو صرف تین دن سزادے کر چھوڑ دیا حالانکہ اسکے سر پر سب دنیا کے گناہ تھے اسکے لئے تو کوئی اور بھی سخت دوزخ بنانی چاہئے تھی اور اگر یہ کہا جائے کہ نہیں چونکہ وہ خدا تھا اور غیر محدود تھا اس لئے تین دن کی سزا کافی تھی تو یہ بھی غلط ہے کیونکہ غیر محدود کی نسبت محدود سے ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ چونکہ وہ غیر محدود تھا تو سزا تو ایک منٹ کیا بلکہ ایک ایسے چھوٹے وقت میں ہونی چاہئے تھی کہ وہ گنا بھی نہ جاتا ورنہ اگر تین دن کی سزا مقرر ہو گی تو بندوں میں اور خدا میں ایک نسبت ہو جائے گی اور اس طرح غیر محدود نہ رہے گا بلکہ محدود ہو جائے گا اور اگر کہا جائے کہ تین دن کی سزا علی الحساب دے دی گئی ہے تو خدا اس طرح ظالم بن جاتا ہے۔ کفارہ پر ایک اور بھی اعتراض ہوتا ہے اور وہ یہ کہ جب ایک تین اور تین ایک ہیں تو جب یسوع تین دن مرا رہا تو