انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 180

انوار العلوم جلد 1 ١٨٠ ہم کس طرح کامیاب ہو سکتے ہیں حاصل کرنے میں کام لیتا ہے اسی طرح خدا نے اپنا جلوہ دکھانے کے لئے انسان کے دل کو پیدا کیا ہے پس جیسا کہ ایک شیشہ میلا ہو جاتا ہے اور کام نہیں دیتا تو اس کا مالک اسے پھینک دیتا ہے اور وہ چور چور ہو جاتا ہے ایسا ہی خدا بھی جب دیکھتا ہے کہ کوئی دل میلا ہو گیا ہے اور اب اس کے جلوہ کو قبول نہیں کرتا تو وہ اسے زور سے پھینک دیتا ہے اور وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے۔ اس وقت ایسا معلوم ہوتا تھا کہ میرے ہاتھ میں ایک شیشہ پکڑا ہوا تھا جسے میں نے ان الفاظ کے ساتھ زور سے زمین پر دے مارا اور کہا کہ اس طرح پھینک دیتا ہے اس کے گرنے سے ایک ہیبت میرے دل پر طاری ہوئی اور میری آنکھ کھل گئی۔ اس کے بعد شرک کا حال مجھ پر اس خواب سے کھلا کہ ایک بزرگ انسان جب اپنے دل کو بہت صاف کرتا ہے اور خدا کا جلوہ اس پر اچھی طرح سے پڑتا ہے تو کم علم لوگ سمجھتے ہیں کہ یہی خدا ہے مگر اصل میں اسے خدا سے کیا نسبت وہ تو اس کا ایک ادنی بندہ ہے۔ لیکن چونکہ اس کے دل پر خدا کا عکس پڑتا ہے اس لئے لوگ اسے خدا سمجھ لیتے ہیں اور یہی بھید ہے تمام دیوتاؤں وغیرہ کا۔ خیر یہ تو ایک بات میں بات آگئی اور اس طرح میری خواب بھی پوری ہو گئی اب پھر اصل مقصد کی طرف لوٹتا ہوں اور وہ یہ کہ تو بہ کے بعد خدا تعالیٰ نے عبادت کو رکھا ہے۔ یعنی انسان نہ صرف اپنے دل کو صاف کرے اور توبہ سے زنگ کو دور کرتا رہے بلکہ پھر اپنے دل کی صفائی سے بھی کام لے یعنی اپنے دل پر خدا تعالیٰ کے جلوہ کا عکس بھی ڈالتا رہے اور اپنے وقت کا ایک حصہ عبادت میں خرچ کرے ۔ عبادت میں یہ حکمت ہے کہ اس سے انسان کا تعلق خدا تعالیٰ سے روز بروز بڑھتا رہتا ہے اور اگر انسان عبادت نہ کرے تو ضرور ہے کہ چند ہی دن میں انسان کا تعلق خدا سے کٹ کر شیطان سے ہو جائے پس خدا تعالیٰ نے عبادت کرنے کی طرف اپنے بندوں کو خاص توجہ دلائی ہے دیکھو تجارت وہ بری ہوتی ہے جو ایک جگہ ٹھہر جائے اور اس کے نفع میں ترقی نہ ہو جب کسی سوداگر سے یہ معاملہ پیش آیا تو سمجھو کہ اس کا کاروبار جلد ہی تباہ ہو جائے گا پس اسی طرح اگر انسان خدا سے تعلق پیدا کر کے آخرت کا نفع نہ جمع کرے تو دینی تجارت بھی جاتی رہے گی اور وہ اس میں گھاٹا کھائے گا پس چاہئے کہ انسان عبادت میں سستی نہ کرے ورنہ سب کیا کرایا غارت ہو گا۔ ہم دنیا میں عبادت کی ایک موٹی سی مثال دیکھتے ہیں کہ بہت سے آدمی اپنی جگہ کے افسر سے ملنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب ایک دو منٹ کے لئے اس سے ملاقات نصیب ہوتی ہے تو ان کو حد درجہ کی خوشی ہوتی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنا مقصد حاصل کر لیا اور گو کہ اس نے اپنا کر لیا کوشش میں ان کو بہت سی تکلیفیں بھی اٹھانی پڑتی ہیں اور بہت سا روپیہ بھی خرچ کرنا پڑتا ہے مگر