انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 179 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 179

انوار العلوم جلدا ۱۷۹ ہم کس طرح کامیاب ہو سکتے ہیں جواب کیوں کر دیئے اس لئے کہ وہ خدا کی طرف سے ہے پس یہ آیت قرآن شریف کی سچائی کو ثابت کرتی ہے اس لئے غور کر کے دیکھ لو کہ خدا تعالٰی نے قرآن شریف میں کوئی نیکی نہیں بتائی جس کو کر کے اعضاء خوش نہ ہوتے ہوں اور کوئی ایسی بدی نہیں بتائی کہ جس کو کر کے اعضاء برانہ مناتے ہوں اور یہ قرآن شریف کی سچائی کا ایک کامل ثبوت ہے۔ غرضیکہ خدا تعالیٰ نے انسان کو دینی سودا کرنے کے لئے چند تجربہ کار عنایت کئے ہیں جو ہر ایک کام کے وقت بتاتے ہیں کہ یہ نیک ہے یا بد ۔ اس کے بعد خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تم اس بیع کو کر چکو اور اس کے تمام لوازم کو پورا کر لو تو تم اب اس بیع کے نتیجہ سے خوش ہو جاؤ کیونکہ تم نے وہ کام کیا ہے جس کا نتیجہ بہت ہی نیک ہو گا اور وہ ایک عظیم الشان کامیابی ہو گی پس جب ایک ادنی انسان یا عہدہ دار کی دی ہوئی خوشخبری پر ہم اس قدر خوش ہوتے ہیں کہ جاموں میں پھولے نہیں سماتے تو خدا کی بتائی ہوئی خوش خبری پر ہم کیوں خوش نہ خوش سانہ ہوں۔ جانتے ہو کہ خدا کا ابہ ا کا ایک دن ہزار دن کا ہوتا۔ کا ہوتا ہے تو جب وہ ایک چیز کو بڑی کہتا کو ہے تو نہ معلوم وہ کتنی بڑی ہو گی میرے تو وہم میں بھی نہیں آسکتی۔ اب اس کے بعد خدا نے چند شرطیں بتائی ہیں کہ جو اس بیچ میں ضروری ہیں اور جن کے بغیر یہ بیچ مکمل نہیں ہو سکتی اول تو یہ کہ انسان ہر وقت اپنے گناہوں اور کوتاہیوں کی معافی مانگتا رہے کیونکہ انسان بعض دفعہ پاک ہو جاتا ہے اور کبائر گناہوں کا بیچ رہ جاتا ہے مگر رفتہ رفتہ اس کے دل پر زنگ لگتا رہتا ہے اور آخر ہلاک ہو جاتا ہے۔ اس کے لئے خدا تعالیٰ نے یہ ترکیب بتائی ہے کہ تو بہ کرتے رہو جو گناہوں کے زنگ کی تلافی ہے اس میں یہ بھی بتایا ہے کہ میں غیر مذاہب کے جھوٹے خداؤں کی طرح ایسا نہیں ہوں کہ کبھی گناہ بخشوں ہی نہیں بلکہ جب کوئی تو بہ کرے تو میں گناہ بخش دیتا ہوں غرض کہ انسان کا دل ایک شیشہ کی طرح ہوتا ہے اگر وہ توبہ نہ کرے تو گدلا ہوتا رہتا ہے اور آخر ایک دن ناکارہ ہو جاتا ہے اس موقعہ پر مجھے ایک خواب یاد آگئی ہے وہ بھی سنا دیتا ہوں میں نے ایک دفعہ دیکھا کہ میں اس طرف منہ کر کے جس طرح اب کھڑا ہوں لیکچر دے رہا ہوں اور اسی طرح اس طرف حضرت خلیفۃ المسیح بیٹھے ہیں اور میں بیان کر رہا ہوں کہ انسان کا دل ایک شیشہ کی طرح ہے اور ایک ایسا شخص جس نے کبھی پہلے آئینہ نہ دیکھا ہو جب وہ اس کے پاس آکھڑا ہو تو سمجھتا ہے کہ کوئی اور شخص ہے۔ مگر جب وہ اپنی ہر ایک حرکت کے ساتھ اس میں بھی حرکت پاتا ہے تو آخر اس پر کھل جاتا ہے کہ یہ میرا ہی عکس ہے اور وہ اس سے اپنے عیب یا حسن پر آگاہی