انوارالعلوم (جلد 1) — Page 172
انوار العلوم جلد ! ۱۷۲ ہم کس طرح کامیاب ہو سکتے ہیں اس لا محدود زندگی کے زمانہ کے لئے ضرورت نہیں اور کیا ہمیں اس کے لئے کچھ بھی تیاری نہیں کرنی چاہئے؟ ہمارے انبیاء و اولیاء آخرت کے متعلق بہت کچھ حالات بیان کر چکے ہیں اور جو ضرورتیں وہاں پیش آئیں گی اور جو ان کے حصول کے ذرائع ہیں ان کی نسبت قرآن شریف بہت بسط اور تفصیل کے ساتھ ہمیں بہت کچھ بتا چکا ہے۔ دیکھو خدا تعالیٰ کسی چیز کو بے فائدہ اور لغو پیدا نہیں کرتا۔ کیونکہ یہ اس کی شان کے برخلاف ہے اس نے جو انسان کو حواس خمسہ اور ہاتھ پاؤں دل و دماغ دیئے ہیں تو جب مرنے کے بعد اس کو دوبارہ زندگی ملے گی تو وہاں بھی کچھ ایسے سامان موجود ہونے چاہئیں جن میں یہ چیزیں مشغول رہیں چنانچہ خدا تعالیٰ نے جنت میں وہ سامان پیدا کئے ہیں اور اگر وہ ایسا نہ کرتا تو اس کا انسان کو پیدا کرنا ایک عبث عمل ٹھر تا چنانچہ جیسا کہ جنت میں اس نے سامان بنائے ہیں ویسا ہی اس نے ان کے حصول کے ذرائع بھی بتا دیتے ہیں اور اسلام اس راستہ کو بتاتا ہے جس پر چل کر انسان اپنی منزل مقصود کو پہنچ سکے اور ان انعامات کو پاسکے جو اس کے لئے بعد از موت مقرر ہیں۔ چنانچہ یہ آیتیں جو میں نے پڑھی ہیں ان میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم لوگ مجھے اپنی ساتھ یا ستر برس کی زندگی اور تھوڑا مال دے دو۔ تو میں اس کے بدلہ میں تمہیں ایک غیر محدود زندگی اور بے شمار اجر دوں گا جس کا دوسرا نام جنت ہے ۔ سو خدان ہے۔ سو خدا تعالیٰ ان آیتوں میں فرماتا ہے کہ ہم نے مؤمنوں سے ان کی جان اور مال خریدا ہے اور یہ اس لئے کہ ان کو اس کے بدلہ میں جنت دی جائے سو کیسا خوش قسمت ہے وہ انسان کہ جو ایسا با نفع اور مفید سودا کرے جس میں نفع ہی نفع ہے اور نقصان نام کو نہیں ۔ انسان ایک ذرا سا سودا کرنے لگے تو بڑی احتیاط کرتا ہے اور ہمیشہ وہی خریدتا ہے جو مفید اور نفع رساں ہو۔ پس کیسا افسوس ہے اس پر جو ایسی تجارت نہ کر تجارت نہ کرے کہ جس میں لاکھوں کا نہیں کروڑوں کا نہیں بلکہ غیر محدود نفع ہے۔ خدا تعالیٰ اس جگہ فرماتا ہے کہ اس سودے میں کوئی نقصان نہیں ہے ۔ پھر تجارت میں اس بات کا لحاظ بھی کر لیا جاتا ہے کہ بازار کا بھاؤ کیا ہے اور یہ تجارت ایسی تو نہیں جس سے پہلے سوداگر ضرر اٹھا چکے ہیں۔ سو اس دینی تجارت میں بھی ہمارا فرض ہے کہ ہم بھاؤ دریافت کریں اور اپنے سے پہلے تاجروں پر غور کریں کہ انہوں نے اس تجارت سے کیا نفع یا نقصان اٹھایا ۔ سو ہم دیکھتے ہیں کہ آدم سے لے کر ہمارے نبی کریم ا تک بے شمار سود اگر ہو گزرے ہیں جنہوں نے ہمیشہ اس سوداگری سے فائدہ ہی اٹھایا بلکہ جو شخص ان کے مقابلہ میں کسی اور جنس کا سود اگر بنا وہ ان کے سامنے ہلاک کیا گیا اور وہی کامیاب رہے۔ ان