انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 167 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 167

انوار العلوم جلد 1 142 صادقوں کی روشنی رہے ہیں۔ و محبت کی خوبیاں بیان فرما کر دشمنوں کو بھی بھائی بھائی بنا دیا ۔ * غرض جو جو برائیاں اور بد اعتقادیاں مسلمانوں میں پھیل گئی تھیں ان کو دور کیا اور وہ اصل اعتقاد جو قرآن و احادیث سے ثابت ہوتے تھے ان میں پھیلائے جن کو سعید روحوں نے قبول کیا۔ مگر وہ جو شقی تھے ان سے متنفر ہو گئے پھر اس کے بعد دوسری تعلیم جو روحانیت کے متعلق ہے ایسی دی کہ اب خدا کے فضل سے تین چار لاکھ احمدی ہیں جن میں سے اکثر صحابہ کے صدق کا نمونہ پھر دکھا رہے ہیں۔ بیسیوں ہیں جو دہریت کی عمیق غار میں گرے ہوئے تھے مگر حضرت اقدس کی تعلیم سے متاثر ہو کر اب فنافی اللہ ہو رہے ہیں۔ سینکڑوں ہیں جو طرح طرح کے مشرکوں اور بدعتوں کو چھوڑ کر خدا اور رسول کے دلدادہ و شیدا ہو وہ جنہیں اسلام کے نام سے نفرت تھی اب اس پر جان دیتے ہیں اور و اور وہ جو ایمان کے نام سے ناواقف تھے۔ اب دوسروں کو ایمان کی طرف بلاتے ہیں۔ غرض تیرہ سو سال کے بعد آپ نے پھر ثابت کر دیا کہ قرآن کی تعلیم پر چل کر انسان کیا سے کیا ہو سکتا ہے۔ پھر تیسری تعلیم جو غیر مذاہب کے متعلق ہے وہ دی ہے کہ اب کوئی مذہب ! ہب اسلام سے بڑھ کر اپنی خوبیاں بیان نہیں کر سکتا۔ تمام مذاہب کی غلطیاں ثابت کر کے ان کو اسلام کی خوبیوں کا قائل کر دیا اور دشمنوں کے منہ سے وہ کلمات نکلوائے جو اسلام کی تعریف سے مملوء تھے۔ براہین جیسی مدلل کتاب لکھ کر آریوں، بر ہمؤوں اور دہریوں کا قلع قمع کر دیا ۔ آئینہ کمالات اسلام لکھ کر وساوس شیطانی کو ایسا دور کیا کہ دل صاف ہو گئے ۔ جلسہ مذاہب میں وہ تقریر کی کہ کل غیر مذاہب کو اسلام کی برتری ماننی پڑی۔ بشپ کو چیلنج دے کر عیسائیت کو پاش پاش کیا تو لیکھرام کو ہلاک کر کے آریوں کو سبق دیا ۔ غرض ان کے وجود کی برکت سے اسلام کا پاک چہرہ پھر دنیا پر مہر عالم تاب کی طرح چمکا اور دوست و دشمن نے اس کی سچائی کا اقرار کیا۔ یہاں تک کہ آپ کی وفات پر بہت سے مسلمانوں نے اس بات کو مانا کہ ان کا ہر ہر لفظ مردہ دلوں کے لئے مسیحائی کا کام کرتا تھا۔ پس یہی کام تھا جس کے لئے وہ آئے تھے۔ اور پورا کر گئے۔ اور یہی تعلیم ہی ہے جو ان کی سچائی کو ثابت کرتی ہے۔ اور میں اگر اس کی نسبت کسی قدر تفصیل سے لکھوں تو یہ ایک بڑا مضمون بن جائے گا۔ اس لئے اسی قدر لکھ کر ختم کرتا ہوں۔ اور امید کرتا ہوں کہ انشاء اللہ میں یا کوئی اور صاحب آئندہ اس معاملہ پر ذرا وسیع نظر ڈالیں گے۔ جس طرح نبی کرتے ہیں ورنہ اگر کوئی اعتراض کرے کہ الگ جماعت بنا کر تفرقہ ڈال دیا تو اسے حضرت عیسی کا قول اورہندہ کی نبی کریم سے گفتگو یاد کرنی چاہئے۔