انوارالعلوم (جلد 1) — Page 166
انوار العلوم جلد ) 144 صادقوں کی روشنی آدم سے لے کر نبی کریم ﷺ تک تمام انبیاء علیھم السلام پر اعتراض وارد ہو گا۔ غرض نبی کی زندگی میں اور اس کے بعد پیشگوئی ہی کوئی سچائی کا ثبوت نہیں بلکہ اور بہت سی باتیں قرآن و احادیث سے ثابت ہیں جن سے نبی کی شناخت ہوتی ہے۔ چنانچہ ان میں سے ایک مثال کے طور پر میں لکھ بھی آیا ہوں اور ثابت کر آیا ہوں کہ اس لحاظ سے بھی حضرت اقدس کی سچائی ثابت ہوتی ہے۔ اور دیگر وجوہات سے بھی جو میں یہ سبب طوالت کے یہاں لکھ نہیں سکتا آپ کا حق پر ہونا پایہ ثبوت کو پہنچتا ہے ۔ پس باوجود ان تمام وجوہات کے چند متشابہات کی وجہ سے حضرت اقدس کا انکار کرنا صاف شقاوت پر دلالت کرتا ہے۔ اور ظاہر کرتا ہے ۔ کہ آدم اول کی طرح آدم ثانی کا بھی محض حسد اور تکبر کی وجہ سے انکار کیا گیا ہے ۔ غرض یہ باتیں تو نبی کی زندگی کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔ مگر اس کے بعد ایک تعلیم ہی رہ جاتی ہے ۔ جو مخالفین اور طالبان حق کے سامنے پیش کی جاسکتی ہے۔ پس اب ہمیں حضرت اقدس کی سچائی کو پرکھنے کے لئے ضروری ہے۔ کہ ان کی تعلیم کو دیکھیں اور اس سے اندازہ لگائیں کہ آیا واقعی انہوں نے وہ کام کیا جو ایک نبی کے لئے ضروری ہے یا نہیں ۔ اب تعلیم بھی تین قسم کی ہوتی ہے۔ اول تو عام شرعی معاملات کی تعلیم جو روزمرہ پیش آتے ہیں۔ دوسری وہ تعلیم روحانی جس سے جماعت میں نیکی اور تقویٰ پیدا ہو جائے۔ تیسری وہ تعلیم جس سے غیر مذاہب کا مقابلہ کیا جائے۔ اور انہیں تینوں تعلیموں کے پھیلانے کے لئے ہر ایک نبی دنیا میں آتا ہے۔ پس دیکھنا چاہئے کہ حضرت صاحب نے ان تمام تعلیمات کو ایسا پھیلایا ہے کہ دوست تو دوست دشمن تک انکار نہیں کر سکتے ۔ ہر ایک فرد بشر چلا چلا کر کہہ رہا ہے کہ حضرت صاحب نے اس وقت اسلام کی وہ خدمت کی ہے کہ اسکا انکار سخت نمک حرامی ہے۔ اسلامی مسائل کو ایسا صاف کیا ہے کہ کسی دشمن کی طاقت نہیں کہ ان پر حملہ کر سکے مسیح کی وفات کے مسئلہ کو صاف کر کے مسلمانوں کے دلوں میں سے شرک کے بت کو اس طرح نکالا کہ خدائے واحد کا روشن چہرہ ان میں منعکس ہونے لگا۔ خدا تعالیٰ کی ذات اور صفات کے مسئلہ پر روشنی ڈالی کہ گویا خدا کو سامنے دکھا دیا ۔ عرش اعظم کی فلاسفی ایسے رنگ میں بیان فرمائی کہ کل اعتراضات جو مخالفین کرتے تھے یکدم دور ہو گئے۔ الہام اور وحی کے دروازہ کو ہمیشہ کے لئے کھلا ثابت کر کے اسلام کو زندہ مذہب ثابت کیا۔ جہاد کا مسئلہ ایسا صاف کیا کہ خونریزی کا بد نما داغ ہمیشہ کے لئے اسلام کے دامن سے مٹ گیا۔ دعا کی حقیقت اور قبولیت کو روز روشن کی طرح کھول کر بتا دیا کہ یہ برکت اسلام میں ہی ہے اور اخوت اور