انوارالعلوم (جلد 1) — Page 164
انوار العلوم فیلم | ۱۶۴ صادقوں کی روشنی الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ ( ال عمران : ۵۲) جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار ہر زمانہ میں رہیں گے۔ پس اس بات کی توقع رکھنا کہ کسی نبی کے کلام میں متشابہات نہ ہوں اور محکمات ہی محکمات ہوں ایک ایسا خیال ہے جو کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔ اور دوسرے متشابہات میں ایک اور حکمت بھی ہوتی ہے کہ انسانی فطرت کچھ عجیب طرح سے واقع ہوئی ہے کہ جو کوئی بڑا آدمی گذرتا ہے اس کے تابعین کچھ مدت گذرنے کے بعد اس کی پرستش کرنے لگتے ہیں۔ مثلا کرشن ، رامچندر عزیز ، مسیح جن کو کچھ مدت بعد خدا کا خدا کا شریک سمجھ لیا گیا۔ پس اگر متشابہات ان کی : ان کی پیشگوئیوں میں نہ ہوں اور محکمات ہی محکمات ہوں اور بشری لوازمات سے یہ لوگ پاک ہوں تو شاید بجائے خدا کے شریک بنانے کے تمام انبیاء کو خدا ہی سمجھ لیا جاتا۔ چنانچہ اس وجہ سے خدا تعالیٰ نے ان کے ساتھ بشری کمزوریوں کو بھی رکھا ہے۔ اور متشابہات کا سلسلہ بھی قائم کر دیا ہے۔ تاکہ آئندہ آنے والی نسلیں ان کے حالات کو پڑھ کر اور ان کی پیشگوئیوں کو دیکھ کر اندازہ لگا سکیں کہ یہ لوگ بھی ہماری طرح انسان ہی تھے ۔ اور خدائی میں ان کی کوئی شراکت نہ تھی۔ چنانچہ غور سے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رامچندر کی بیوی کو راون کالے جانا اور ان کو خبر نہ ہونا اور پھر بڑی تکلیفوں کے بعد آس پاس کی قوموں سے مدد لے کر راون پر فتح پانا اسی لئے تھا کہ ان کی امت ان کو خدائی کا درجہ نہ دے اور اگر دے تو سعید الفطرت انسان ہمیشہ سمجھ سکیں کہ وہ ایک برگزیدہ نبی تھے ۔ خدا نہ تھے ۔ اسی طرح حضرت عیسی کا یہودیوں سے مار کھا کر سولی پر لٹکایا جانا اور تخت کے وعدہ کا جھوٹا نکلنا بھی اسی لئے تھا کہ عیسائی ان کو خدا کا بیٹا کہتے ہوئے شرما ئیں اور سعید روحیں ہمیشہ ان باتوں پر غور کر کے شرک کی ملونی سے ن سے اپنے آپ کو پاک رکھیں ۔ پس ظاہر ہے کہ متشابہات کا ہونا نہ صرف اس لئے ضروری تھا کہ بچوں اور جھوٹوں کو الگ کیا جائے بلکہ اس لئے بھی کہ آئندہ نسلیں کسی نبی کو خدایا اس کا شریک نہ بنائیں۔ اور اگر وہ ایسا کریں بھی تو سعید انسان عقل سے کام لے کر اس شرک سے الگ رہیں۔ پس ہر ایک طالب حق کو چاہئے کہ جو کوئی شخص حضرت اقدس کی بعض پیشگوئیوں پر جو متشابہات سے ہیں اعتراض کرے تو اس کے سامنے یہ معاملہ کھول کر بیان کر دے کہ متشابہات کا ہونا ہر ایک نبی کی پیشگوئیوں کے لئے ضروری ہے۔ اور ہر ایک نبی کے ساتھ ایسا ہوتا آیا ہے۔ اور خدا کی سنت یہی رہی ہے۔ اور سچائی کے دریافت کرنے کے لئے محکمات ہی دیکھے جاتے ہیں۔ چنانچہ حضرت اقدس کی محکمات پیشگوئیاں اس کثرت کے ساتھ ہیں کہ کوئی صاحب بصیرت انسان ان کو دیکھ کر آپ کی سچائی میں شک نہیں لا سکتا۔ اور یہ فیصلہ کا ایک ایسا آسان اور محکم طریق ہے کہ اس