انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 163

انوار العلوم جلد 1 ۱۶۳ صادقوں کی روشنی کم تھیں ؟ کیا وہ لوگ ان پیشگوئیوں کو دیکھ کر نصیحت نہیں پکڑ سکتے ۔ حضرت ابو بکڑ نے تو بغیر کسی نشان دیکھے کے نبی کریم ﷺ کو قبول کر لیا۔ مگر یہ نادان باوجود اس قدر بینات کے پھر حق سے منہ موڑتے ہیں اور متشابہات پر زور دیتے ہیں۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا مطلب حق اور باطل کو ملانے سے ہے اور کچھ نہیں۔ جب قرآن شریف نے ہم کو یہی راہ بتایا ہے کہ ہم محکمات کو دیکھیں اور متشابہات کا خیال نہ کریں تو باوجود اس نص صریح کے کیوں ایک دوسرا طریق اختیار کیا جائے۔ اور اگر متشابہات پر زیادہ زور دیا بھی گیا تو پھر کل انبیاء کا انکار کرنا پڑے گا کیونکہ کل انبیاء علیہم السلام کی پیشگوئیوں میں متشابہات پائے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ ہمارے سردار اور ہادی حضرت محمد مصطفی ال کی پیشگوئیاں بھی اس سے خالی نہیں۔ پس جب سب انبیاء کے کلام میں ایسا پایا جاتا ہے تو پھر حضرت اقدس پر کوئی کیا اعتراض کر سکتا ہے۔ اور جو شخص ان کو اس وجہ سے جھوٹا سمجھتا ہے چاہئے کہ کل انبیاء کا انکار کرے۔ پس صاف اور بے خطر طریق وہی ہے جو قرآن شریف نے بتایا ہے یعنی متشابہات کا خیال نہ کرو۔ کیونکہ ان کے لئے تعبیریں ہوتی ہیں اور وہ مختلف رنگوں میں پوری ہو جاتی ہیں بلکہ محکمات کو دیکھو جن پر فیصلہ کا اصل دار و مدار ہوتا ہے ۔ اور اس اصول پر جب ہم دیکھتے ہیں تو حضرت اقدس کی وفات پر جس قدر اعتراضات ہوتے ہیں۔ سب کے سب بلا امتیاز خود بخود رد ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ حضرت اقدس کی سینکڑوں پیشگوئیاں ہیں جو پوری ہو چکی ہیں۔ اور ہزاروں نشانات ان کے ہاتھ پر دکھائے گئے ہیں۔ پس ان کے ہوتے ہوئے متشابہات کی طرف ہم توجہ نہیں کر سکتے اگر کوئی پیشگوئی پوری نہ ہوتی اور کل کی کل متشابہات ہی ہوتیں تو پھر کسی کو حق ہو سکتا تھا کہ وہ یہ اعتراض کرے کہ فلاں پیشگوئی پوری نہ ہوئی۔ لیکن جب بفضل خدا خود حضرت اقدس اپنی زندگی میں سینکڑوں نشانات کی فہرست شائع کر چکے ہیں جو ایسے کھلے طور سے پورے ہوئے کہ ان میں کوئی شک کی گنجائش نہیں رہتی تو اب بر خلاف حکم قرآن و احادیث بعض ایسی پیشگوئیوں پر اعتراض کرنا جو بظاہر پوری نہیں ہو ئیں عقل سے بعید ہے۔ اور یہ اعتراضات نہ صرف حضرت اقدس پر پڑتے ہیں ۔ بلکہ کل انبیاء پر وارد ہوتے ہیں۔ جس سے ان سب کا انکار لازم آتا ہے۔ میں یہ بھی ثابت کر آیا ہوں کہ متشابہات کا ہونا بھی ضروری ہوتا ہے۔ کیونکہ اگر متشابہات نہ ہوں تو ایک تو ایمان بالغیب کا ثواب نہ رہے اور دو سرے کل دنیا مسلمان ہو جائے جو خدا تعالیٰ کی سنت کے بر خلاف ہے کیونکہ وہ اپنے پاک کلام میں فرما چکا ہے کہ وَ جَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ