انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xix of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page xix

انوار العلوم جلدا ۹ تعارف کتب نهایت معقول حل پیش کیا۔ جو دسمبر ۱۹۰۹ء میں تشحیذ الاذہان میں ” دین حق " کے نام سے شائع ہوا۔ آپ فرماتے ہیں: اسلام ہی ہے جو انسان اور خدا کے تعلقات کو مضبوط کرتا ہے۔ اور انسان کے دل میں اس خالق حقیقی کی محبت کا فوارہ جاری کر دیتا ہے۔ اور اگر کسی اور مذہب کے پیرو کار کو اس کے برخلاف یقین ہو تو وہ اس کے مقابلہ میں اپنی کتاب میں سے دعوئی اور دلائل پیش کرے ورنہ بے فائدہ جھگڑوں سے کیا حاصل؟" اسی معیار پر آپ نے قرآن کریم کی سورہ فاتحہ کی روشنی میں ثابت کیا کہ فقط اسلام ہی ہے جو خالق کی حقیقی محبت انسان کے دل میں پیدا کرتا ہے ۔ (۷) نجات عیسائی اکثر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ غیر مسیحی نجات کی حقیقت کو ہی نہیں سمجھتے تو اس کے حصول کے ذرائع ان کو کیونکر معلوم ہو سکتے ہیں۔ اس پر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے نجات کا فلسفہ “ کے عنوان سے ۱۹۱۰ء میں تشحیذ الاذہان میں سلسلہ وار مضامین لکھے۔ جن میں ثابت کیا کہ اسلام جیسا فلسفہ نجات کوئی دو سر انذ ہب نہیں پیش کر سکتا۔ با قاعده نجات انجات کی بابت گفتگو سے قبل آپ نے دو اہم امور و اہم امور کی طرف توجہ دلائی کہ : دلائی کہ ہماری طرح عیسائی پادریوں اور آریہ پنڈتوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے ہر عقیدہ کو اپنی کتاب ۔ اب سے ثابت کریں۔ اس کے حق میں اس کتاب سے دلائل مہیا کریں اسی اصول پر عیسائی جب کفارے کا مسئلہ پیش کریں تو اپنی الهامی کتاب کی رو سے پیش کریں۔ آپ نے اس امر کی طرف بھی توجہ دلائی کہ اسلام ، عیسائیت اور آریہ مت والے تینوں ایک دوسرے کو اپنے اندر شامل کرنے کے لئے دعوت و تبلیغ کرتے ہیں تو کیا یہ بات ان کی الہامی کتابوں سے ثابت ہے کہ وہ اپنی قوم کے علاوہ دوسروں کو اپنی طرف آنے کی دعوت دیں۔ آپ نے انجیل لئے اور وید سے ثابت کیا کہ یہ ہر دو مذہب مخصوص قوموں کے لئے تھے نہ کہ سب بنی نوع انسان کے آپ نے قرآن کریم کی متعد متعدد آیات سے ثابت کیا کہ اسلام سب دنیا کے لئے ہے۔ اور فقط اسلام ہی میں گذشتہ گناہوں سے نجات ہے۔ اور بقیہ مذاہب میں اگر یہ تصور نہیں ہے تو اس کی