انوارالعلوم (جلد 1) — Page 157
انوار العلوم جلد 1 ۱۵۷ صادقوں کی روشنی پیشگوئیاں ان کو دکھلائی گئیں۔ یعنی بعض پیشگوئیاں صاف اور بعض متشابہات کے رنگ میں کیونکہ ان کے نبیوں کی پیشگوئیاں بھی اسی طرز پر ہیں اور اس لئے وہ ہم پر کوئی اعتراض نہیں کر سکتے ہاں کرشن ہونے کی حالت میں جو پیشگوئیاں ہندوؤں کی کل قوموں کو دکھلائی گئی ہیں ان پر اعتراض کرنے کا ان کو حق حاصل ہے اور یہ عجیب بات ہے کہ چونکہ ہندوؤں کے نبیوں کے حالات غائب ہیں اور پایہ ثبوت کو نہیں پہنچ سکتے اور ان میں کوئی تاریخ نہیں جس سے ان کے اصل واقعات کا پتہ مل سکے۔ اور دوسرے ان کی ایک قوم آریہ ان نبیوں کے وجود سے بھی منکر ہے۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے ان کے لئے جو معجزات دکھائے وہ ایسے صاف ہیں کہ ان پر کوئی اعتراض نہیں آسکتا۔ مثلا دیانند لیکھرام اور قادیان کے بعض آریوں کی نسبت پیشگوئیاں ایسی صاف اور صریح ہیں کہ کسی ہندو کی مجال نہیں کہ ان پر اعتراض کر سکے ۔ بلکہ بعض سلیم الفطرت ہندو صاف طور سے اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ وہ پوری ہو گئیں ۔ اور بعض کے نام حضرت اقدس نے اپنی بعض کتابوں میں درج بھی کئے ہیں۔ پس ہندو صاحبان کو چاہئے کہ اعتراض کرشن کے معجزات پر کریں جو ان کے لئے ہیں کیونکہ ہر ایک قوم پر اس کے رنگ میں حجت قائم کی جاتی ہے اور دوسروں کو اس پر اعتراض نہیں ہو سکتا۔ مثلاً ایک قوم اخلاقی تعلیم کو اصل دارو مدار سچائی کا سمجھتی ہے۔ تو اس پر ہم اسلام کی سچائی اسی رنگ میں ثابت کریں گے اور دوسری قوموں کو اس پر کوئی اعتراض کا حق نہ ہو گا۔ یا مثلاً ہم عیسائیوں کو کہیں کہ جن نشانیوں کا نبی توریت میں بتایا گیا تھا وہ ہمارے نبی کریم اللہ تھے اور یہ ان کی سچائی کا ایک نشان ہے۔ تو اس پر آریوں یا سناتن دھرم کو کچھ اعتراض نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ ان کے رنگ میں ان پر اتمام حجت قائم کی گئی۔ پس ہندو قوموں کو چاہئے کہ وہ کرشن والی پیشگوئیوں پر اعتراض کریں جہاں خدا کے فضل سے ان کو اعتراض کی کوئی گنجائش نہ ملے گی کیونکہ خدا تعالٰی نے انہیں کے رنگ میں ان پر اتمام حجت قائم کی ہے۔ پس یاد رہے کہ اول تو کل جو اب جو میں دے آیا ہوں وہ سب قوموں کے لئے یکساں ہیں۔ اور دوسرے کثرت دیکھنی چاہئے۔ اور تیسرے ہندو قوموں کو ان پیشگوئیوں پر اعتراض کرنے کا حق حاصل ہے جو کرشن کی حیثیت میں ہیں۔ اور خدا تعالٰی نے اپنے فضل سے وہ پیشگوئیاں بالکل صاف طور سے پوری کی ہیں۔ کیونکہ اگر ان میں متشابہات ہوتے تو ہم کو آریوں پر ان کی سچائی ثابت کرنی مشکل ہو جاتی۔ کیونکہ ان کے نبیوں کے حالات ملنے بہت مشکل بلکہ قریباً نا ممکن ہیں۔ پس خدا کے فضل سے دنیا کی کوئی قوم نہیں جو حضرت مسیح موعود کے الہامات پر اعتراض کر سکے اور خدا تعالیٰ کا کلام بڑے زور سے پورا ہو کر ان کی سچائی