انوارالعلوم (جلد 1) — Page 156
انوار العلوم جلد 1 ۱۵۶ صادقوں کی روشنی وہ آپ کی زندگی میں آئے گا اس کی نسبت دوبارہ الہام ہو چکا تھا کہ وہ آپ کی موت کے بعد ہو گا۔ چنانچہ اسی طرح ہوا۔ اور میں وہ دونوں الہام جو اس بارہ میں ہوئے اوپر درج کر آیا ہوں۔ پس یہ کہنا کہ وہ زلزلہ حضرت صاحب کی زندگی میں کیوں نہ آیا ایک بے ہودہ اعتراض ہے اور بے فائدہ ضد ہے۔ اب آخر میں اس قدر اور لکھنا چاہتا ہوں کہ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ دلائل تو ان لوگوں کے لئے ہوئے جو مسلمان ہیں یا عیسائی ہیں۔ مگر آریوں کے لئے جو ان مذکورہ بالا پیشگوئیوں پر اعتراض کرتے ہیں کیا جواب ہیں۔ سو یا د رہے کہ اول تو میرے جواب قریبا کل کے کل ایسے ہیں جو خدا کے فضل سے کل قوموں کے لئے ہیں مثلاً عمر کی نسبت شہادۃ صحیحہ کہ وہ پوری ہوئی اور الہام کے مطابق ہوئی۔ نکاح کے متعلق یہ جواب کہ اس کا ایک حصہ اس صفائی سے پورا ہوا کہ اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا اور دوسرا اس لئے التواء میں پڑ گیا اور فتح کیا گیا کہ جن کی نسبت سزا تجویز تھی انہوں نے رجوع کیا اور ایک اور صریح جواب یہ دیا ہے کہ خود حضرت اقدس لکھ گئے ہیں کہ وہ فخ ہو گیا یا التواء میں پڑ گیا ہے۔ اور زمانہ نے بتا دیا ہے کہ وہ نسخ ہی ہو گیا ہے ۔ پس جب خود مسلم کہہ گیا ہے کہ وہ فتح ہو گیا تو کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ اور بیٹے کی نسبت بھی لکھ آیا ہوں کہ حضرت کے الہاموں سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ ان کے ہاں نہیں بلکہ آئندہ نسل سے ہو گا اور ایک خاص شان کا ہو گا۔ اور مولوی محمد حسین اور زلزلہ کی نسبت بھی ایسے ہی جواب دے آیا ہوں۔ پس اگر ان کا کوئی اعتراض ہو سکتا ہے تو ان جوابوں پر جو گذشتہ نبیوں کی مثالیں دیکر دیئے گئے ۔ سو وہ الزامی جواب ہیں حقیقی نہیں حقیقی وہ ہیں جو سب کے لئے ایک ہیں۔ اور دوسرے ان لوگوں کے لئے ہمارا صاف جواب یہ ہے کہ ہمیشہ کثرت دیکھنی چاہئے۔ پیشگوئیوں میں متشابہات بھی ہوتی ہیں۔ بعض آئندہ زمانہ کے لئے ہوتی ہیں۔ پس ان پر اعتراض نہیں ہو سکتا۔ کثرت کی طرف نظر کرنی چاہئے ۔ سو جہاں حضرت اقدس کی ہزاروں پیشگوئیاں روز روشن کی طرح پوری ہو ئیں۔ اگر چند پیشگوئیاں کسی وجہ سے بعض لوگوں کو سمجھ میں نہ آئیں تو ان پر اعتراض کرنا محض ضد اور تعصب ہے اور صداقت کے طالب ان باتوں سے دور ہیں۔ اور دوسری یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ حضرت اقدس کے تین دعوے تھے ایک مہدی کا ایک عیسی کا ایک کرشن کا اور اس وقت تین قومیں ہی زبردست ہیں مسلمان ، عیسائی اور ہندو۔ پس ہر ایک قوم کے لئے جو معجزات و کھلائے گئے ہیں ۔ وہ انہیں کے رنگ کے ہیں۔ مسلمانوں اور عیسائیوں کے نبیوں کے حالات چونکہ معلوم ہیں اس لئے ان کے رنگ کی