انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 131 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 131

انوار العلوم جلد | ۱۳۱ صادقوں کی روشنی قطعی ہو سکتا ہے چنانچہ خداوند تعالیٰ نے چاہا کہ اس کے قول کے مطابق اس کو پکڑے اور ملزم کرے۔ تاکہ ایسا ہو کہ وہ کام جس کے لئے حضرت مسیح موعود مبعوث ہوئے تھے پورا ہو اور دنیا میں اصلاح کا بیج بویا جائے ۔ ۷۶) پس چونکہ ان کی بعثت کی اصل غرض شاء اللہ کا مارا جانا نہ تھی بلکہ سنت انبیاء کے مطابق دنیا کی اصلاح تھی۔ اس لئے خداوند تعالیٰ نے اسکو اس کے قول کے مطابق پکڑا چنانچہ حضرت اقدس کی دعا نقل کرتے ہوئے اہلحدیث میں ایک نوٹ دیا ہے۔ جو اس کے نائب اڈیٹر کی طرف سے ہے۔ اور اس نے اس کی کوئی تردید نہیں کی اور نہ کبھی اس کے خلاف لکھا وہ نوٹ یہ ہے کہ ” آپ اس دعوئی میں قرآن شریف کے صریح خلاف کہہ رہے ہیں قرآن تو کہتا ہے کہ بدکاروں کو خدا کی طرف اسے مہلت ملتی ہے۔ سنو قُلْ مَنْ كَانَ فِي الضَّلَلَةِ فَلْيَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمَنُ مَدًّا ( مريم : ٧٦) اور إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُ دادُوا إِثْماً ( آل عمران : ۱۷۹) اور وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ (البقرہ : ۱۶) وغیرہ آیات تمہارے دجل کی تکذیب کرتی ہیں اور سنو بَلْ مَتَعْنَا هَؤُلَاءِ وَأَبَاهُمْ حَتَّى طَالَ عَلَيْهِمُ الْعُمُرُ (الانبیاء (۲۵) جن کے صاف معنی یہی ہیں کہ خدا تعالیٰ جھوٹے دغا باز مفسد اور نا فرمان لوگوں کو لمبی عمریں دیا کرتا ہے۔ تاکہ وہ اس مہلت میں اور بھی برے کام کر لیں پھر تم کیسے من گھڑت اصول بتلاتے ہو کہ ایسے لوگوں کو بہت عمر نہیں ملتی۔ کیوں نہ ہو ۔ دعوی تو مسیح، کرشن اور محمد واحمد بلکہ خدائی کا ہے اور قرآن میں یہ لیاقت ؟ ذَلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِنَ الْعِلْمِ پس اب ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ اگر شاء اللہ مرجاتا تو اس کے تابعین یا ہم خیالوں پر کیا اثر پڑتا یا ان پر اتمام حجت کیونکر ہوتی ۔ وہ تو صاف کہہ دیتے کہ ہم تو پہلے ہی کہہ چکے تھے اور ہمارا استاد ہم سے اتفاق رکھتا تھا کہ جھوٹے کو زیادہ عمر ملتی ہے اور ۔ ہے اور مفسد اور کذاب ڈھیل دیئے جاتے ہیں پس ہم پر کیا اتمام حجت ہے اور اس کی تائید میں اہلحدیث ۲۶ / اپریل ۱۹۰۷ء کے صفحہ ۴ کا وہ نوٹ جو میں اوپر لکھ آیا ہوں پیش کر دیتے اور اس طرح وہ اصلاح جس کو مد نظر رکھ کر وہ دعا شائع کی گئی تھی نہ ہوتی۔ پس خدا تعالٰی نے خود انہیں کے مقولوں کے مطابق ان کو پکڑا اور اپنا کلام پورا کیا کہ لَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ انی یعنی جھوٹے اور مفسد لوگ خواہ کوئی راہ اختیار کریں خداوند تعالی ان کو کامیاب نہیں کرتا۔ بلکہ انہیں کے اصولوں کے مطابق ان کو پکڑتا ہے۔ دیکھو یہ کیسی بات صاف ہے۔ کہ غلام دستگیر قصوری ، اسماعیل علیگڑھی چراغ دین جمونی اور فقیر مرزا ان کا یہ مذہب تھا کہ جھوٹا بچے کی زندگی میں مر جاتا ہے۔ اور وہ جو خدا پر افتراء کرتا ہے لمبی عمر نہیں پاتا۔ اور صادق کو خداوند تعالی بر خلاف