انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 130 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 130

انوار العلوم جلد ! ۱۳۰ صادقوں کی روشنی تھی۔ اور وہ یا تو ایک وقت تک ملتوی ہو جاتا تھا یا منسوخ ہو جاتا تھا۔ اور اسی سنت اللہ کے مطابق خدا تعالیٰ نے اس وقت بھی اپنے نبی سے سلوک کیا اور حضرت اقدس کے عہد بابرکت میں بھی اسی طرح ہوا جیسے پہلے نبیوں کے زمانہ میں۔ اور جب کوئی وعید کی پیشگوئی ہوئی یا کسی اور صورت سے کسی دشمن کو عذاب کا وعدہ دیا گیا اور اصلاح کی کوئی اور صورت نکل آئی تو پھر وہ وعید کی پیشگوئی مل گئی۔ چنانچہ آتھم کے وقت میں بھی ایسا ہی ہوا کہ جب اس نے رجوع کیا اور اپنے دل میں سخت ڈرا اور عین مباہلہ کے وقت امر تسر میں اس نے نبی کریم ا کو گالیاں نکالنے سے انکار کیا جو کہ بنائے مباہلہ تھی تو خداوند تعالیٰ نے اس پر سے عذاب کو ٹال دیا اور اس کو ڈھیل دی اور وہ پندرہ ماہ سے زیادہ زندہ رہا۔ لیکن جب اس نے قسم کھانے سے انکار کیا اور پھر مفسدہ کا خوف ہوا تو خداوند تعالٰی نے اصلاح اس میں دیکھی کہ پھر اسی مدت ( پندرہ ماہ میں) اسے ہلاک کیا جائے اور پہلے جو اس کو ڈھیل دی گئی تو صرف اس وجہ سے کہ اس نے اپنے نفس کی اصلاح کی لیکن جب اس نے پھر شرارت کی تو ملک کی اصلاح اس میں تھی کہ اس کو ہلاک کیا جاتا چنانچہ خدا تعالیٰ نے ایسا ہی کیا۔ اسی طرح شاء اللہ کے لئے بھی حضرت اقدس نے جو بد دعا کی تو اس لئے کہ دنیا میں اصلاح ہو اور وہ لوگ جو اس کے زیر اثر ہیں وہ اس عذاب کو دیکھ کر ڈریں اور توبہ کریں۔ اور ان پر حجت قائم ہو جائے۔ پس اس دعا کا اصل مدعاشاء اللہ کی پارٹی پر اتمام حجت کرنا تھا کیونکہ کسی شخص کی وفات سے یا ہلاکت سے اس کے دشمنوں پر کیا اثر ہو سکتا ہے وہ تو کہہ دیں گے جھوٹا تھا ہلاک ہو گیا مگر وہ جو اس کے دوست ہیں اور اس سے تعلق رکھتے ہیں اور اس کی عزت انکے دلوں میں ہے اس کی موت سے نصیحت پکڑ سکتے ہیں اور اپنی اصلاح کر سکتے ہیں اور ان پر اتمام حجت ہو سکتا ہے۔ پس دعا جو شاء اللہ کے لئے کی گئی تھی اس کا اثر صرف اس کے پیروان پر ہو سکتا تھا اور وہی تھے جن کے سامنے ہم یہ بات پیش کر سکتے تھے ۔ کہ شاء اللہ مرزا صاحب کی دعا کے مطابق مر گیا۔ لیکن جب شاء اللہ نے محض شرارت اور چالاکی سے اس دعا کے فیصلہ سے انکار کر دیا ۔ اور صاف لکھ دیا کہ میرا مرنا کسی کے لئے کوئی حجت نہیں اور میری موت سے مرزا صاحب کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا اور یہ بھی لکھا کہ اس فیصلہ کو میں منظور نہیں کرتا۔ چنانچہ اہلحدیث ۲۶ / اپریل ۱۹۰۷ء میں درج ہے کہ ” یہ تحریر تمہاری مجھے منظور نہیں اور نہ کوئی دانا اسے منظور کر سکتا ہے ۔ " پس جبکہ ثناء اللہ نے اس فیصلہ کو دانائی سے بعید اور ناقابل منظوری سمجھ کے رد کر دیا تو پھر اس کی پارٹی پر اس کی موت کا کیا اثر پڑ سکتا تھا۔ اگر یہ مرجاتا تو وہ کہہ دیتے کہ ہمارا استاد تو لکھ گیا ہے کہ یہ فیصلہ مجھے منظور نہیں پھر ہمارے لئے یہ کیونکر