انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 127 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 127

انوار العلوم جلد 1 ۱۲۷ صادقوں کی روشنی ا نہ چکھائے آپ نے یہ مضمون لکھا ہے اور اس میں آپ لکھتے ہیں کہ مجھ پر مرزا صاحب کے مباہلہ کا کوئی اثر نہیں ہوا اور سال جو میعاد مباہلہ ہوتا ہے وہ گزر گیا۔ اور اس طرح آپ نے اپنی طرف سے زور لگایا ہے کہ یہ ثابت کر دیں کہ میعاد مباہلہ گذر گئی ہے۔ اب مجھ پر کوئی عذاب نہیں آنا چاہئے ۔ اور اب میں محفوظ ہوں۔ چنانچہ آپ حضرت اقدس کی وفات سے چند دن پہلے اپنے ایک مضمون میں جو رسالہ مرقع میں پہلی جون کو شائع ہوا لکھتے ہیں۔ " مرزائی جماعت کے جو ۔ جماعت کے جوشیلے ممبرو ! اب کس وقت کے منتظر ہو تمہارے پیر مغاں کی مقرر کردہ مباہلہ کی میعاد کا زمانہ تو گزر گیا ۔ مگر افسوس کہ یہ بات لکھتے ہوئے شرم تو نہ آئی کہ میں اس دعا کو مباہلہ کا نام دیتا ہوں جس کا انکار کر چکا ہوں۔ جبکہ آپ اپنے اپنے اخبار اہلحدیث میں صاف طور سے اس دعا کے اثر کا انکار کر چکے ہیں اور لکھ چکے ہیں کہ میں اس طریق فیصلہ کو قطعا نا منظور کرتا ہوں اور مجھے اس سے قطعی اتفاق نہیں اور کوئی دانا اس سے اتفاق نہیں کر سکتا۔ تو اب آپ کو کیا ہوا کہ اپنے ہی قول کے مطابق بیوقوف اور جاہل بن کر اس کے مطابق فیصلہ چاہتے ہیں۔ خیر اس بات پر تو ہم کافی لکھ آئے ہیں۔ اس عبارت کے یہاں نقل کرنے سے ہمارا اصل مطلب یہ ہے کہ آپ نے نہ صرف اس دعا کے اثر سے انکار ہی کیا بلکہ ایک سال کی میعاد کے بعد اس کو مباہلہ کا نام دے کر اس کی میعاد کو ختم کر دیا چنانچہ مرقع کی مندرجہ بالا سطور سے جو اس کے صفحہ ۲۰ بابت جون ۱۹۰۸ء میں درج ہیں۔ اور جو کہ میں اوپر نقل کر آیا ہوں۔ صاف پتہ لگتا ہے کہ مولوی شاء اللہ کے خیال میں اس دعا کی میعاد ختم ہو گئی ہے یا کم سے کم حق کے خوف سے ان کو مجبور کیا ہے کہ وہ ایسا مضمون لکھ کر اپنا پیچھا چھڑا ئیں۔ اور اپنے خیال میں اس عذاب سے بچ جائیں جو کہ ان کے لئے آسمان پر مقرر ہو چکا ہے۔ یا کم سے کم کسی مصیبت کے وقت یہ بات کہہ سکیں کہ میں اس دعا کے فیصلہ سے شروع میں بھی انکار کر چکا ہوں۔ اور مزید احتیاط کے لئے ایک سال کے بعد بھی میں نے اس کا انکار شائع کر دیا ہے ۔ مگر جبکہ وہ دو دفعہ پہلے اس کا انکار کر چکے ہیں تو اب حضرت صاحب کی وفات کو اس دعا کی بناء پر کیوں ٹھہراتے ہیں۔ کیا خدا کا خوف ان کے دل میں اس قدر بھی نہیں کہ وہ کم سے کم اس بات کو ہمارے مقابل پر بطور دلیل کے نہ لائیں جس کا مانناوہ خود دانائی سے بعید اور حماقت قرار دے چکے ہیں۔ تیسری بات یہ ہے کہ کسی نبی کا دنیا میں مبعوث ہونا یا مأمور ہونا صرف اسی غرض کے لئے ہوتا ہے کہ وہ لوگ جو راہ راست سے دور جا پڑے ہیں۔ اور طرح طرح کے دشوار گذار جنگلوں اور میدانوں میں بھٹکتے پھرتے ہیں۔ ان کو صراط مستقیم پر چلایا جائے اور وہ لوگ جو خدا کے وجود کا انکار