انوارالعلوم (جلد 1) — Page 126
انوار العلوم جلد 1 ۱۲۶ صادقوں کی روشنی ظاہر کرنا کہ میرے ساتھ مباہلہ کی وجہ سے وہ فوت ہوئے ہیں سرا سر اتمام ہے اور تہمت ہے اور جھوٹ ہے۔ کیا یہ اس بات سے انکار کر سکتا ہے کہ اس نے اس وقت انکار کیا تھا اور اس دعا کے فیصلہ کو منظور نہیں کیا تھا۔ پس جب یہ خود اپنی زبان سے انکار کر چکا ہے اور اس طریق فیصلہ کو نامنظور کر چکا ہے۔ تو اب یہ کس طرح حضرت صاحب کی وفات سے اپنی سچائی ثابت کر سکتا ہے۔ اسے چاہئے تھا کہ شرم کرتا اور حیا سے کام لیتا مگر حق کے مخالفوں سے ایسا کس طرح ہو سکتا ہے۔ وہ جھوٹ اور فریب سے کام لینا برا نہیں سمجھتے بلکہ ایک قسم کا ثواب سمجھتے ہیں۔ اس وقت تو سچائی کے رعب میں آکر اس نے حیلہ بازی سے اپنا سر عذاب الہی کے نیچے سے نکالنا چاہا مگر جب اس کے انکار مباہلہ سے وہ عذاب اور طرح سے بدل گیا تو اس نے اس منسوخ شدہ فیصلہ کو پھر دہرانا شروع کر دیا ۔ مگر کیا یہ خیال کرتا ہے کہ وہ عذاب سے بچ جائے گا یا خدا کا غضب اس پر نہیں بھڑکے گا۔ نہیں اس کی یہ سراسر غلطی ہے جو اس کے مامور کا انکار کرتے ہیں وہ سزا سے نہیں بچتے اور خدا تعالیٰ انہیں بری طرح پیتا ہے اور دنیا پر ظاہر کر دیتا ہے کہ جھوٹے اور بچے میں کیا فرق ہے ۔ اگر مولوی شاء اللہ نے اس دعا کے فیصلہ سے انکار کر کے اس بات سے اپنے آپ کو بچا لیا ہے کہ یہ حضرت صاحب کی زندگی میں فوت نہیں ہوا تو کیا ہوا ۔ خدا کا کلام بڑے زور سے اطلاع دے رہا ہے کہ حضرت مسیح موعود کے مخالف نہیں بچیں گے ۔ اور وہ اس دنیا میں اور آخرت میں ذلت کا عذاب بھگتیں گے۔ اور خدا ان کو اس طرح ہلاک کرے گا کہ دنیا ان کا نام لیتے ہوئے شرمائے گی۔ اور آئندہ آنے والی نسلیں اپنی اولاد کو ان کے نام لے کر نصیحت کریں گی کہ دیکھو بدی کا بدلہ بدی ہوتا ہے ۔ ان لوگوں نے خدا کے مامور کی دشمنی کی اور اس ذلت اور عذاب میں پڑے۔ پس کیا ہی خوش قسمت ہے وہ انسان جو روشنی سے فائدہ اٹھائے۔ اور کیسا بد بخت ہے وہ جو نصف النہار کے وقت سورج کا انکار کرے ۔ وہ جن کی آنکھیں تندرست ہیں روشنی پر خوش ہوتے ہیں۔ مگر وہ جو آشوب چشمی میں مبتلا ہیں روز روشن میں بھی اندھیرے میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ نہ صرف مولوی شاء اللہ نے اسی وقت اس دعا کے اثر سے انکار کیا بلکہ پیچھے بھی اس سے انکار کرتا رہا۔ کیونکہ اصل بات یہ ہے کہ جھوٹے اور شریر کے دل میں ایک قسم کا خلجان ہوتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ میرے جھوٹ کی سزا مجھ کو ملے گی اور وہ شرارتیں جو میں نے کی ہیں وہ رنگ لائے بغیر نہیں رہیں گی اور ایک دن مجھے ان کی سزا برداشت کرنی پڑے گی۔ چنانچہ مئی ۱۹۰۸ء کے مرقع قادیانی میں اس بات سے ڈر کر کہ کہیں خداوند تعالی اس شوخی اور شرارت کا مزہ