انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 123 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 123

انوار العلوم جلد 1 ۱۲۳ صادقوں کی روشنی میں یہ بھی لکھ دیا کہ مولوی ثناء اللہ اس دعا کو اپنے اخبار میں چھاپ کر جو چاہیں نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ اب ناظرین غور کر سکتے ہیں کہ یہ ایک فیصلہ کا طریق تھا جس سے جھوٹے اور بچے میں فرق ہو جائے اور اس کی غرض سوائے اس کے کچھ نہ تھی کہ حق اور باطل میں کچھ ایسا امتیاز پیدا ہو جائے کہ ایک گروہ بنی نوع انسان کا اصل واقعات کی تہہ تک پہنچ جائے اور شرافت اور نیکی کا مقتضا یہ تھا کہ مولوی شاء اللہ اس دعا کو پڑھ کر اپنے اخبار میں شائع کر دیتا کہ ہاں مجھ کو یہ فیصلہ منظور ہے ۔ مگر جیسا کہ میں پہلے لکھ آیا ہوں اس کو سوائے ہو شیاری اور چالاکی کے اور کسی بات سے تعلق ہی نہیں۔ اور اگر وہ ایسا کر تا تو خداوند تعالیٰ اپنی قدرت دکھلاتا۔ اور شاء اللہ اپنی تمام گندہ دہانیوں کا مزہ چکھ لیتا۔ اور اسے معلوم ہو جاتا کہ ایک ذات پاک ایسی بھی ہے جو جھوٹوں اور بچوں میں فرق کر دکھلاتی ہے۔ اور وہ جو بدی اور بدذاتی کرتا ہے اپنے کئے کی سزا کو پہنچتا ہے اور شریر اپنی شرارت کی وجہ سے پکڑا جاتا ہے۔ مگر جبکہ بر خلاف اس کے اس نے اس فیصلہ سے بھی انکار کیا اور لکھ دیا کہ مجھ کو یہ فیصلہ منظور نہیں تو آج جبکہ حضرت صاحب فوت ہو گئے ہیں۔ اس کا یہ دعوا ں کا یہ دعوی کرنا کہ میرے ساتھ مباہلہ کرنے کی وجہ سے فوت ہوئے ہیں۔ اور یہ میری سچائی کی دلیل ہے ۔ کہاں تک انصاف پر مبنی ہے اور کیا کوئی انصاف پسند از انصاف پسند انسان ایسا بھی ہے جو ان تمام واقعات کو دیکھ کر پھر بھی اس بات پر شک لا سکے کہ مولوی ثناء اللہ کو سوائے اس دنیا کی شہرت سے اور کچھ مد نظر نہیں ۔ اور وہ خدا جو آسمانوں کا خدا ہے اور جس کی ہر ایک دل پر نظر ہے اور جو ہر ایک چھپی اور کھلی بات کو جانتا ہے اس کی آنکھوں سے پوشیدہ ہے اور اس کو اس کی ہستی پر ایمان نہیں ۔ یہ دنیا کو ہی اپنا مال کار سمجھتا ہے اور روز حشر سے بے پرواہ ہے۔ چنانچہ اس دعا کے شائع ہونے کے بعد جن الفاظ میں اس نے اس فیصلہ سے انکار کیا میں وہ نیچے درج کرتا ہوں تاکہ ہر ایک انسان بطور خود مولوی ثناء اللہ صاحب کی چالا کی سے واقف ہو جائے اور جان لے کہ خدا تعالیٰ نے مسیح کو بے وقت نہیں بھیجا غرض کہ مولوی صاحب اس فیصلہ سے انکار کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ” اس دعا کی منظوری مجھ سے نہیں لی اور بغیر منظوری کے اس کو شائع کر دیا " میرا مقابلہ تو آپ سے ہے اگر میں مر گیا تو میرے مرنے سے اور لوگوں پر کیا حجت ہو سکتی ہے ، تمہاری یہ دعا کسی صورت میں فیصلہ کن نہیں ہو سکتی کیونکہ ہ اسی مطلب کے لئے تو حضرت صاحب نے یہ فقرہ لکھا تھا۔ کہ آپ اس دعا کو شائع کر کے جو چاہیں نیچے لکھ دیں۔ تاکہ خدا تعالی بھی اسی رنگ میں نشان دکھاوے۔ منہ لوگوں پر تو حجت کچھ نہیں مگر آپ کے پہلے اور دیگر اہلحدیث جن کی نسبت لکھتے ہیں کہ کلکتہ تک آپ کو مباحثات پر بلاتے ہیں۔ تو اس فیصلہ سے ملزم ٹھرتے ہیں۔ مگر اس فیصلہ کو منظور ہی نہیں کیا تو اب مبالہ قرار دے کر کیوں عاقبت خراب کرتے ہو ۔ منہ ☆