انوارالعلوم (جلد 1) — Page 122
انوار العلوم جلد | ۱۲۲ صادقوں کی روشنی کذب ہیں۔ اس پر ان کو لکھا گیا کہ آپ کو کتاب حقیقۃ الوحی شائع ہونے پر بھیج دی جائے گی۔ آپ اس کو پڑھ کر قسم کھا کر شائع کر دیں کہ یہ تمام الہامات جھوٹے ہیں اور کل معجزات غلط ہیں۔ اور یہ بھی لکھ دیں کہ اے خدا اگر میں اس بات میں جھوٹا ہوں تو میری دعا ہے کہ تیرے حکم لعنت اللہ علی الکاذبین کے مطابق تیرا عذاب مجھ پر نازل ہو ۔ اور اس کے شائع ہونے کے بعد حضرت اقدس بھی شائع کر دیں گے کہ یہ تمام الہامات خدا کی طرف سے ہیں۔ اور اگر میں جھوٹا ہوں۔ تو میری دعا ہے کہ لعنت اللہ علی الکاذبین۔ مگر مولوی ثناء اللہ جو سوائے باتیں بنانے کے اور کچھ جانتے ہی نہیں اور دین حق کا شرارت سے مقابلہ کرنا چاہتے تھے اس بات کو مان کر کس طرح فیصلہ کر سکتے تھے ۔ انہوں نے بات کو ٹالنے کے لئے اس بات پر زور دینا چاہا۔ کہ پہلے عذاب کی تعیین کر دو ۔ تو پھر میں مباہلہ کرتا ہوں۔ اور باوجود اس کے کہ قرآن وحدیث سے ان کو بتایا گیا اور ثابت کیا گیا کہ مباہلہ میں کوئی عذاب کی تعیین نہیں ہوتی بلکہ سوائے لعنت اللہ علی الکاذبین اور کچھ نہیں کہا جاتا۔ انہوں نے اپنے پہلے کلام سے پھرنا نہ چاہا اور خلاف حکم و سنت ایک نئی بدعت نکالنے پر زور دیتے گئے۔ اور اس کا سوائے اس کے کیا مدعا تھا کہ کسی طرح یہ پیالہ ان کے سر سے ٹل جائے اور وہ اس امتحان سے نجات پائیں۔ پس سوائے اس کے اور کیا ہو سکتا تھا کہ فیصلہ کی کوئی اور راہ نکالی جائے۔ چنانچہ حضرت اقدس نے اس خیال سے کہ زیادہ تر مولوی ثناء اللہ کو خود اشتہار دینے کی دقت ہے اپنی طرف سے ایک اشتہار شائع کیا۔ اور اس میں اس قسم کی دعا ئی کہ اے خدائے قادر چونکہ مولوی شاء اللہ بد زبانی میں حد سے بڑھ گیا ہے اور میری نسبت تمام دنیا میں عام طور سے شائع کرتا ہے کہ یہ شخص کا ذب ہے جھوٹا ہے اور فریبی ہے اور اس نے کوئی معجزات اور خوارق نہیں دکھلائے ۔ گویا کہ یہ تمام میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری طرف سے نہیں ہوں اور محض لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے میں نے یہ دعوی کیا ہے ۔ پس اے میرے مولی اور میرے قادر خدا جو کہ میرے دل کی حالت کو جانتا ہے اور علم رکھتا ہے میں نے یہ افتراء نہیں کیا بلکہ تیری طرف سے حکم پاکر ایسا کیا ہے۔ بچے اور جھوٹے میں فرق کر کے دکھلا تاکہ دنیا گمراہی سے بچ جائے اور تو ایسا کر کہ اگر میں سچا ہوں تو شاء اللہ کو میری زندگی میں کسی مملک مرض میں گرفتار کریا میرے سامنے ہی اسے موت دے ورنہ اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھے اس کی زندگی ہی میں اس دنیا سے اٹھائے اور شاء اللہ اور اس کے ساتھیوں کو اس سے خوشی پہنچا۔ اور اس دعا کے اوپر یہ بات صاف صاف لکھ دی کہ میں کسی الهام یا پیشگوئی کی بناء پر فیصلہ نہیں چاہتا بلکہ خدا سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ایسا کرے۔ اور اس کے آخر