انوارالعلوم (جلد 1) — Page 111
انوار العلوم جلد ! 111 صادقوں کی روشنی رسول کو پکڑنا چاہا تھا اسی راہ سے اس کو پکڑ لیا۔ یعنی حضرت صاحب کو اس کی مقرر کردہ تاریخ پر وفات نہ دی۔ اور ۲۶ / مئی کو دی جو تاریخ خود آپ کے الہامات سے ثابت ہوتی تھی۔ اور اس طرح خدا کا وہ کلام کہ ”جھوٹے اور بچے میں فرق کر کے دکھایا جائے گا پورا ہوا۔ اور عبدالحکیم کے منہ پر کذاب کا ایسا بد نما داغ لگا جو قیامت تک مٹ نہیں سکتا۔ اور یہ بات جو میں نے لکھی ہے کہ جب عبدالحکیم نے چودہ ماہ والی پیشگوئی کو منسوخ کر دیا تو خدا نے بھی اپنے وعید کو دوسرے رنگ میں بدل دیا بے ثبوت نہیں بلکہ قرآن شریف سے بھی ثابت ہوتی ہے۔ چنانچہ جن لوگوں کے لئے فرمایا تھا کہ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ ۔ ان میں سے ؟ بھی بہت سے لوگ آخر کار ایمان لائے اور بڑے بڑے انعا انعام و اکرام کے مستحق ٹھرے پس اس جگہ بھی خدا تعالٰی نے اپنی سنت قدیمہ کے مطابق جس کی نسبت وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَبْدِيلًا کا حکم آیا ہے عمل کیا۔ اور جب عبدالحکیم خاں نے اپنی پیشگوئی کو چھوڑ کر ایک اور پیشگوئی پر اپنی سچائی کا مدار رکھا تو خداوند تعالٰی نے بھی اپنی بے پایاں قدرتوں سے چاہا کہ اس کو اپنی راہ سے ہلاک کرے۔ چنانچہ اس نے اس کی پیشگوئی کو بالکل غلط ثابت کر دیا ۔ اور اس نے بتایا تھا کہ حضرت اقدس علیہ السلام ۴ / اگست کو فوت ہوں گے مگر ایسا نہ ہوا۔ چنانچہ یہ جھوٹا ٹھہرا۔ اور تبصرہ میں بتایا ہو ا عذاب إِذَا فَاتَ الشَّرط فَاتَ الْمَشْرُوطُ کے مطابق اس پر سے ٹل گیا۔ کیونکہ اس کو جھوٹا ثابت کرنا ضروری تھا۔ سو خدا نے ثابت کر دیا ۔ پانچویں بات جو عبدالحکیم کے تمام دعاوی کو بالکل تو ڑ دیتی ہے۔ اور اس کے جھوٹ کا قلع قمع کر دیتی ہے ایسی صاف ہے کہ خدا کے فضل سے اس کے بعد اس شخص کا ہاتھ کہیں پڑہی نہیں سکتا اور خواہ کتنے ہی دانت پیسے اور پیشانی رگڑے ممکن ہی نہیں کہ اپنے مطلب کے مطابق کوئی بات نکال سکے۔ چنانچہ اگر غور سے دیکھا جائے تو حضرت اقدس علیہ السلام نے کبھی کوئی الہام شائع نہیں کیا جس میں یہ آیا ہو کہ عبدالحکیم تیری زندگی میں ہلاک ہو جائے گا۔ زیادہ سے زیادہ مندرجہ ذیل چند الہامات ہیں جن سے یہ اپنے مطلب کی بات نکالتا ہے ۔ مگر میں یہ ثابت کرتا ہوں کہ ہرگز ان سے کہیں یہ ثابت نہیں ہوتا کہ عبدالحکیم آپ کی زندگی میں ہلاک ہوا ازندگی میں ہلاک ہو گا۔ اور پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ وہ الہامات اس وقت کے ہیں جبکہ اس نے چودہ ماہ والی پیش گوئی کی تھی اور اس پیشگوئی کے بدلنے پر ان الہامات کی سزا بھی اور رنگ میں بدل گئی۔ بہر حال وہ الہامات یہ ہیں رَبِّ فَرِّقُ بَيْنَ صَادِقٍ وَ كَاذِبٍ أَنْتَ تَرَى كُلَّ مُصْلِحٍ وَ صَادِقٍ أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ الْفِيلِ