انوارالعلوم (جلد 1) — Page 110
انوار العلوم جلد 1 ۱۱۰ صادقوں کی روشنی میری عمر بڑھادی۔ چنانچہ اگر وہ چودہ ماہ کی میعاد عبدالحکیم قائم رکھتا تو اس وقت اس کا یہ اعتراض ہو سکتا تھا کہ میری بتائی ہوئی میعاد کے اندرفوت ہو گئے ہیں اس لئے میں سچا ہوں۔ مگر جب اس نے خود اس پیشگوئی کو رد کر دیا اور لکھ دیا کہ بجائے چودہ ماہ والی پیشگوئی کے اب ۴ / اگست کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ تو تبصرہ میں جو کچھ لکھا گیا تھا اس کے پورے ہونے کی ضرورت نہیں رہی۔ کیونکہ وہ اشتہار تو اس غرض کے لئے لکھا گیا تھا کہ جھوٹے اور سچے میں فرق ثابت کیا جائے اور دنیا پر ظاہر ہو جائے کہ کون جھوٹا ہے اور کون سچا۔ پس جب اس نے ۴ / اگست تاریخ وفات مقرر کر دی ۔ تو اب سچے اور جھوٹے میں فرق اس طرح ہو سکتا تھا کہ ایک دوسرے کی پیشگوئی کے مطابق ہلاک ہو جاتا۔ اور اس طرح اپنے آپ کو جھوٹا ثابت کر جاتا۔ پس خدا تعالیٰ نے مرزا صاحب کو ۲۶ / مئی کو وفات دے کر ثابت کر دیا کہ عبدالحکیم جھوٹا ہے۔ چنانچہ تبصرہ کے الفاظ بھی یہی ہیں کہ جو دشمن تیری وفات کی پیشگوئی کرتے ہیں ان کو میں جھوٹا ثابت کروں گا پس صاف ثابت ہوا کہ خدا تعالیٰ کا منشا اس جگہ دشمن کو جھوٹا ثابت کرنے کا تھا نہ کچھ اور ۔ چنانچہ جب اس نے اپنی پیشگوئی کو خود ہی رد کر دیا اور لکھا کہ اب ۱۴ اگست کی تاریخ مقرر ہو گئی ہے تو خداتعالیٰ نے اس کو اس طرح جھو ٹا ثابت کیا کہ آپ کو ۲۶ / مئی کو وفات دے دی اور اس کی پیشگوئی ایک دیوانہ کی بڑ کی طرح ردی گئی۔ اور جھوٹے اور بچے میں خدا تعالیٰ نے فرق کر کے دکھلا دیا کہ بچوں کی باتیں سچی اور جھوٹوں کی جھوٹی ہوتی ہیں۔ چنانچہ ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ اگر ایک شخص کو کہا جائے کہ تو اس لئے ہلاک ہو جائے گا کہ تو اسلام کو برا کہتا ہے اور گالیاں دیتا ہے۔ اس کے بعد وہ شخص اسلام لے آئے اور بڑا متقی اور پر ہیز گار ہو جائے تو وہ اس ہلاکت سے بچ جائے گا کیونکہ اس نے وہ بات چھوڑ دی۔ اسی طرح یہاں بھی یہی معاملہ ہے۔ عبدالحکیم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نسبت پیشگوئی کی کہ وہ چودہ مہینے کے اندر فوت ہو جائیں گے اور یہ میری سچائی کا نشان ہے۔ اس پر حضرت مسیح موعود نے شائع کیا کہ ایسا نہیں ہو گا بلکہ یہ خود میرے سامنے ہلاک ہو جائے گا۔ اور یہ سب باتیں اس لئے ہیں کہ بچے اور جھوٹے میں فرق ہو جائے ۔ چنانچہ اگر یہ شخص اس پیشگوئی پر قائم رہتا۔ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے ہلاک ہو جاتا اور وہ زندہ رہتے ۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کو تو اپنے نبی اور رسول کی سچائی ظاہر کرنی منظور تھی نہ کہ کچھ اور ۔ مگر چونکہ بعد میں یہ اپنی بات سے پھر گیا اور اس نے چودہ ماہ والی پیشگوئی کو اپنی سچائی کانشان قرار نہ دیا ۔ بلکہ لکھا کہ میری سچائی کا ثبوت یہ ہے کہ مرزا ۴ / اگست کو فوت ہو گا۔ تو خدا تعالیٰ نے بھی اپنی پہلی بات کو منسوخ کر دیا اور جس راہ سے اس نے اس کے