انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 106 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 106

انوار العلوم جلد 1 ۱۰۶ صادقوں کی روشنی میں مضمون کے شروع میں لکھ آیا ہوں۔ تو اس کے بعد اس شخص کا کوئی پیشگوئی کرنا ایک اول درجہ کی حماقت ، جہل ، بیوقوفی اور نادانی نہیں تو اور کیا ہے ۔ بلکہ ہمارا حق ہے کہ ہم اس کو اس کی چالا کی اور شرارت پر محمول کریں۔ دوسری دلیل بھی میں کسی قدر لکھ آیا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اس کو شیطانی الہام ہوتے ہیں۔ اور اس کے کئی ثبوت ہیں۔ اول یہ کہ اس نے خود اپنی تصانیف میں اس بات کا اقرار کیا ہے کہ میرے عمل بھی اچھے نہیں ہیں اور میں ایک بد عمل مؤمن ہوں۔ اور مجھے شیطانی الہام بھی ہوتے ہیں۔ پس جو شخص خود مانتا ہے کہ مجھ پر شیطان کا تصرف ہے۔ اس کے الہاموں کی نسبت اور زیادہ ثبوت دینے کی چنداں ضرورت نہیں۔ کیونکہ جب ملہم خود اقراری ہے تو دوسرے کو کیا شک ہو سکتا ہے ۔ مگر یہ بات جو اس نے لکھی ہے واقعی عجیب ہے کہ میں بد عمل مؤمن ہوں۔ تعجب ہے کہ آپ رحمتہ للعالمین بھی ہیں اور پھر ساتھ ہی نماز روزہ کے بھی پابند نہیں۔ افسوس اس شخص کو یہ بات لکھتے ہوئے اتنا شعور بھی نہیں آیا کہ جب لوگ اس رحمتہ للعالمین کو نماز روزہ کا پابند نہ دیکھیں گے تو نبی کریم ا کی نسبت جن کے زمانہ کو تیرہ سو سال گزر گئے ہیں نعوذ باللہ کیا خیال کریں گے ۔ خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا اصل بات یہ تھی کہ آپ خود اس بات کے مقر ہیں کہ مجھ کو شیطانی الہامات ہوتے ہیں۔ اور خود آپ کے الہامات نے نے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ آپ کو شیطانی الهامات بھی ہوتے ہیں اور رحمانی کوئی نہیں ہوتا۔ کیونکہ جو الہام ہوتا ہے وہ پہلے حضرت اقدس کو ہو چکا ہوتا ہے یا ایک واقعہ کے بعد اس کے مطابق آپ کو ایک الہام ہو جاتا ہے۔ اور اگر کوئی الہام ان دونوں باتوں سے الگ ہوتا ہے تو وہ اکثر بلکہ ہمیشہ جھوٹا نکلتا ہے ۔ جیسا کہ حضرت صاحب کی وفات کی نسبت اس نے لکھا تھا ۔ کہ ۲۱ ساون کو ہو گی ۔ مگر وہ ۲۶ / مئی کو فوت ہوئے ۔ اور پھر ایک اور ثبوت اس کے جھوٹے ہونے کا یہ ہے کہ خود اس کو اقرار ہے کہ مجھ کو رحمانی الہامات بھی ہوتے ہیں اور شیطانی بھی۔ پس کس طرح ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ ایک ایسے دل پر اپنا کلام نازل کرے جس پر پہلے سے شیطانی قبضہ ہے ۔ کیا سیاہی اور سفیدی ایک جگہ اکٹھی ہو سکتی ہے ؟ پاک اور ناپاک ملائے جاسکتے ہیں ؟ بول کو ممکن نہیں کہ انگور لگیں۔ اور گو خور مکھی کبھی بھی شہد کا چھتہ تیار نہیں کر سکتی۔ پھر کس طرح ممکن ہے کہ ایک ملم شیطانی پر خدا کا کلام نازل ہو ۔ اور وہ اس کو رحمتہ للعالمین قرار دے جس کلام کی نسبت خدا تعالیٰ اپنے پاک کلام میں فرماتا ہے کہ لا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعہ : ۸۰) کیا وہ نجس دل پر نازل ہو سکتا ہے جس میں اس قدر خشیت خدا بھی نہیں