انوارالعلوم (جلد 1) — Page 105
انوار العلوم جلد 1 ۱۰۵ صادقوں کی روشنی گا۔ اس کے بعد حضرت اقدس پر متواتر وحی ہوئی کہ بہت جلد تمہاری وفات ہونے والی ہے۔ اس پر میاں عبد الحکیم نے ایک دوسری پیشگوئی شائع کر دی جس میں چودہ ۱۴ اماہ میعاد مقرر کر دی۔ یعنی قریباً سال بھر پہلی پیشگوئی میں سے کم کر دیا ۔ کیونکہ جب اس نے یہ پیشگوئی کی تھی۔ تو اس وقت تین سال والی پیشگوئی میں سے قریباً آٹھ ماہ گذر چکے تھے۔ پھر حضرت اقدس کو کچھ ایسے الہام ہوئے ۔ تیری عمر بڑھا دی گئی ہے۔ اس پر آپ نے ایک اور الہام شائع کر دیا۔ کہ اگر زیادہ سے زیادہ مہلت ملی تو وہ تین سال والی پیشگوئی کے متعلق ہو گی۔ پھر جب حضرت اقدس کو موت کے الہام ہوئے اور بتایا گیا کہ اب تو بہت ہی قریب وقت آگیا ہے ۔ تو آپ کو جھٹ الہام ہوا کہ مرزا ۲۱ - ساون مطابق ۴ اگست کو فوت ہو جائے گا۔ چنانچہ خداوند تعالیٰ نے اس مفتری کو ایسا پکڑا کہ سب کچھ کیا کرایا بر باد ہو گیا اور اس کی کذب بیانی کو ایسا ظاہر کر دیا کہ قیامت تک یہ سیاہی اس کے چہرے سے نہیں اتر سکتی۔ کیونکہ باوجود اس کے کہ اس نے بڑے دعوئی سے پیشگوئی کی تھی کہ عین ۲۱ ساون کو مرزا فوت ہو جائے گا۔ حضرت اقدس ۲۶ / مئی کو فوت ہوئے ۔ اور اس کو جھوٹا ثابت کر گئے ۔ پس اس شخص کا مفتری ہو تا صاف ثابت ہے۔ کیونکہ پہلے اپنی موت کی خبر حضرت اقدس نے دی تھی۔ اور پھر اس نے ۔ اور وہ بھی اس کی بتائی ہوئی خبر غلط نکلی کیونکہ اس نے تین سال کی میعاد فسخ کر کے ۱۴ عبد الحكيم اگست کی تاریخ مقرر کر دی تھی۔ تو پھر ناظرین خود سمجھ سکتے ہیں کہ لعنت خدا کس پر پڑی ۔ مگر میاں الحکیم کو کون سمجھائے۔ ایک تو وہ حضرت صاح صاحب کی پیشگوئیوں سے مضمون اڑا کر اپنی پیشگوئی بنا کر شائع کر دیتے ہیں۔ یا یہ کہ ان کا الہام بھیجنے والا یہ کام کرتا ہے۔ اور پھر دعوی اس بات کا کرتے ہیں کہ میں خدا کار سول اور وقت کا مصلح ہوں۔ تف ہے اس رسالت پر اور لعنت ہے اس اصلاح پر کہ اول تو چوری کرنی اور پھر شریفوں کے سامنے فخر کرنا۔ مجھے افسوس تو اس بات پر آتا ہے کہ یہ شخص اتنا بھی نہیں سمجھتا کہ حضرت صاحب کی وفات سے سچائی تو ان کی ظاہر ہوئی۔ اور پیشنگوئی تو ان کی پوری ہوئی۔ پھر یہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹنے لگا۔ کیا اس میں شرم و حیا کا انتا مادہ بھی نہیں رہا کہ یہ اس بات کو سمجھ لے کہ حضرت اقدس نے تو اس کی پیشگوئی کے وجود سے پہلے اپنی وفات کی خبر دی تھی؟ اور کیا اس میں اتنی بھی عقل نہیں رہی کہ یہ الوصیت کے الفاظ کو سمجھ سکے ؟ اس کے وہ تمام دعاوی علوم و فنون کہاں گئے ۔ جب یہ اردو اچھی طرح نہیں سمجھ سکتا تو قرآن شریف کی تفسیر کیا لکھتا ہے جو غیر زبان میں ہے۔ اب ناظرین غور کریں کہ الوصیت میں حضرت اقدس نے اس کی پیشگوئی سے مدت پہلے اپنی وفات کی خبر دی تھی۔ اور ایک الہام سے تین سال کی میعاد بھی مقرر کی گئی تھی۔ جو