انوارالعلوم (جلد 1) — Page 99
انوار العلوم جلد 1 ۹۹ صادقوں کی روشنی بھی وہ اس کام کو کر کے چھوڑتا ہے۔ اور وہ جو اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں آخر ہلاک ہو جاتے ہیں اور ایک دنیا ان کی ذلت اور تباہی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتی ہے۔ وں سے دیکھ لیتی ہے۔ اور وہ ہمیشہ نصرت اور فتح کے شہزادے کہلاتے ہیں۔ اور ایک وقت مقررہ تک اپنا کام کر کے اور دنیا کو سیدھی راہ دکھا کر پھر اپنے بھیجنے والے کی طرف چلے جاتے ہیں اور ان کے پیچھے ان کے متبعین اس کام کو پورا کرتے ہیں۔ اور خدا کی نصرت ان کے شامل حال ہوتی ہے پس جبکہ خدا تعالیٰ نے اپنی سنت قدیمہ کے ماتحت اس زمانے میں ایک نبی بھیجا تو کیونکر ممکن ہے کہ وہ اس کو بغیر مدد کے چھوڑ دے اور اس کی جماعت کو تباہ ہونے دے ۔ اگر وہ نبی اب ان میں نہیں رہا اور اپنا کام ختم کر کے اس دنیا سے عالم جاوداں کی طرف چلا گیا ہے تو کیا ہوا۔ خداوند تعالیٰ جو حی و قیوم ہے ان کو ضائع ہونے نہیں دے گا۔ کیونکہ وہ اسی کا لگایا ہوا پودا ہے۔ تمام دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گی اور اس پر ثابت ہو جائے گا کہ خدا ہمیشہ سچے کا حامی ہوتا ہے ۔ پس وہ مدعی جو اس وقت حضرت مسیح موعود کی وفات پر شور مچاتے اور اس کو اپنی کرامت بتاتے ہیں دیکھ لیں گے کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور خداوند تعالیٰ ان سے کیا سلوک کرتا ہے۔ کیا وہ بچوں کی طرح خدا کی طرف سے نصرت و مد د پاتے ہیں یا ہلاکت کا منہ دیکھتے ہیں ۔ مگر وہ لوگ یاد رکھیں کہ جھوٹا کبھی فروغ نہیں پاسکتا۔ اور آج اگر وہ سلامت ہے تو ضرور ہے کہ وہ کل ہلاک کیا جائے۔ کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں کہ خدا تعالیٰ جھوٹے کو بھی وہی مدد اور نصرت دے جو بچوں کو دیتا ہے۔ کیونکہ اگر ایسا ہو تو دنیا تباہ اور برباد ہو جائے اور خدا کا نام دنیا سے مٹ جائے اور کوئی نہ ہو جو کہہ سکے کہ سچائی اس طرف ہے اور خدا کے نبیوں کی پہچان کا کوئی طریقہ باقی نہ رہے۔ پس میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ بچے اور جھوٹے کی بڑی شناخت یہی ہے کہ بچے کے ساتھ نصرت اللهی اور مدد خداوندی شامل ہوتی ہے۔ مگر جھوٹا باوجود اس کے کہ وہ اپنا تمام زور خرچ کرے اور تمام شیطانی فوجیں اس کے ساتھ ہوں وہ کبھی وہ نصرت اور فتح اور مقبولیت نہیں حاصل کر سکتا جو سچے کو خدا تعالیٰ کی طرف سے عنایت ہوتی ہے۔ پس اے لوگو! تم نے حضرت مسیح کی زندگی کو اور ان کے حالات کو دیکھ لیا ہے اور وہ مدد اور نصرت جو خدا تعالیٰ نے ان کو بخشی ہے اس کا مشاہدہ کر لیا ہے اب کچھ مدت انتظار کرو اور ان جھوٹے مدعیوں کی زندگی کو بھی دیکھو۔ اور کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرے گا کہ یہ لوگ تمہاری آنکھ کے سامنے ہلاک ہو جائیں گے۔ اور ایسی ذلت ان کے حصہ میں آئے گی۔ کہ ان کے طرف دار حضرت مسیح موعود کے مقابلہ میں ان کا نام لیتے ہوئے شرما ئیں گے اور یہ ایک ایسا نشان ہو گا کہ اس کے بعد حضرت مسیح موعود کے لئے کسی اور نشان کی ضرورت نہیں