انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 90 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 90

انوار العلوم جلد | ۹۰ صادقوں کی روشنی رکھنے والوں کے لئے خدا تعالیٰ کی ذات کا ایک بین ثبوت ہوتی ہے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود کی پیدائش اور وفات بھی تمام نبیوں کی طرح ہوئی ۔ آپ کے لئے پیشگوئی تھی کہ آنے والا مسیح تو ام پیدا ہو گا اور اس کے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہو گی ۔ چنانچہ ایسا ہی ہو ا ہو گی ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور حضرت کی پیدائش دنیا کے لیئے ایک نشان قرار دی گئی کیونکہ اس سے خدا تعالیٰ کی شوکت اور جلال ثابت ہوا۔ اور اس کے ایک بزرگ بندے کا کلام جو اس نے خدا سے خبر پا کر کیا تھا پورا ہوا ۔ اور پھر آپ کی وفات ؟ بھی سنت انبیاء کے مطابق ایک نشان کے طور پر ہوئی۔ کیونکہ آپ نے اپنی وفات پانے سے پہلے ہی دنیا کو اس بات کی خبر دے دی تھی کہ میں عنقریب وفات پانے والا ہوں۔ چنانچہ آپ نے دسمبر ۱۹۰۵ء میں رسالہ الوصیت شائع کیا اور اس میں بو ضاحت اس امر کو لکھ دیا کہ اب میں بہت جلد وفات پانے والا ہوں اور اپنے پیدا کرنے والے اور مأمور کرنے والے کی طرف جانا میرے لئے مقدر ہو چکا ہے۔ اس لئے میں اپنی وصیت کو شائع کرتا ہوں۔ چنانچہ اس الوصیت کے شروع میں آپ تحریر فرماتے ہیں۔ کہ "چونکہ خدائے عزو جل نے متواتر وحی سے مجھے خبر دی ہے کہ میرا زمانہ وفات نزدیک ہے اور اس بارہ میں اس کی وحی اس قدر تواتر سے ہوئی کہ میری ہستی کو بنیاد سے ہلا دیا اور اس زندگی کو میرے پر سرد کر دیا ۔ اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ اپنے دوستوں اور ان تمام لوگوں کے لئے جو میرے کلام سے فائدہ اٹھانا چاہیں چند نصائح لکھوں"۔ (الوصیت صفحہ ۳ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه (۳۰۱) اور پھر آگے چل کر یوں تحریر فرمایا ہے۔ کہ سواے عزیز را جبکہ قدیم سے سنت اللہ ہی ہے کہ خدا تعالیٰ دو قدر میں دکھاتا ہے ۔ تا مخالفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھلاوے۔ سواب ممکن نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کر دیوے ۔ اس لئے تم میری بات سے جو میں نے تمہارے پاس بیان کی غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے۔ کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہو گا۔ اور وہ دوسری قدرت نہیں آسکتی جب تک میں نہ جاؤں۔ لیکن میں جب جاؤں گا تو پھر خدا اس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا۔ جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی۔ جیسا کہ خدا کا براہین احمد یہ میں وعدہ ہے اور وہ وعدہ میری ذات کی نسبت نہیں ہے۔ بلکہ تمہاری نسبت وعدہ ہے ۔ جیسا کہ خدا فرماتا ہے کہ میں اس جماعت کو جو جماعت کو جو تیرے پیرو ہیں قیامت تک دو سروں پر غلبہ دوں گا۔ سو ضرور ہے کہ تم پر میری جدائی کا دن آوے۔ تا بعد اس کے وہ دن آدے جو دائی وعدہ کا دن ہے ۔ وہ ہمارا ا