انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 89

انوار العلوم جلد | بسم الله الرحمن الرحیم ۸۹ صادقوں کی روشنی محمدہ و نصلی علی رسوله الكريم تمهید اور بعض نہایت ضروری باتیں اشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَاشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ خدا تعالیٰ کے پاک کلام كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَ يَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلالِ وَالْإِكْرَامِ (الرحمان: ۲۷- ۲۸) کے مطابق جو کوئی پیدا ہوا وہ فوت ہوا۔ اور جو آئندہ پیدا ہو گاوہ بھی فوت ہو گا۔ سوائے خدا کی ذات واحد کے اور کوئی نہیں جو ہمیشہ ہو اور ہمیشہ رہے ۔ آج سے تیرہ سو سال پہلے خدا تعالیٰ نے نبی کریم اس کو وفات دے کر اس بات کو ایسی طرح ثابت کر دیا کہ کوئی شک وشبہ کی گنجائش بھی نہیں رہی اور آج تیرہ سو سال آنحضرت اللہ کی وفات کے بعد حضرت مسیح موعود کی وفات نے خدا تعالیٰ کے کلام کی سچائی کو دنیا پر ظاہر کیا اور ثابت کر دیا کہ کوئی شخص خواہ خدا تعالیٰ کا کیسا ہی پیارا ہو اور کتنی ہی بڑی شان کا ہو ۔ آخر بشر ہے اور مخلوق ہے اور ایک دن اس کے لئے مرنا ضروری ہے۔ مگر مبارک وہ جو ان باتوں سے نصیحت پکڑے اور اپنے نفس کو شرک کی ملونی سے پاک رکھے ۔ چونکہ نبیوں کا کام بھی دنیا سے شرک اور دوسرے گناہوں کا دور کرنا ہوتا ہے۔ اس لئے خدا تعالی تعالٰی اپنے نام کی چہکار دکھلانے کے لئے ان کے ہاتھوں سے ایسے نشان دکھلاتا ہے کہ دنیا پر خدا کا وجود روز روشن کی طرح ثابت ہو جاتا ہے اور دنیا گویا کہ خدا تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتی ہے اور ان کی وفات کے ساتھ بھی ایسے نشان وابستہ ہوتے ہیں کہ ان کی موت بھی چشم بصیرت