انوارالعلوم (جلد 19) — Page 597
انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۹۷ مسلمانان بلو چستان سے ایک اہم خطاب نے کہا یہی حال مسلمانوں کا ہے وہ آپس میں بے شک لڑ رہے ہیں مگر آپ کے مقابلہ میں انہوں نے اکٹھے ہو جانا ہے وہ جرنیل آخر دشمن تھا اور اس نے گندی مثال ہی دینی تھی مگر اس سے اتنا تو ظاہر ہے کہ کتوں میں بھی یہ بات پائی جاتی ہے کہ وہ خطرہ کے وقت آپس کی لڑائی کو بھول کر دشمن کے مقابلہ میں متحد ہو جاتے ہیں چنانچہ اس جرنیل نے جو بات کہی تھی ویسا ہی ہوا۔ حضرت معاویہ کو جب پتہ لگا کہ روم کا بادشاہ حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو اس نے اپنے سفیر کے ذریعہ بادشاہ کو ایک خط بھیجوایا اور اس میں لکھا کہ بے شک حضرت علیؓ اور میں دونوں آپس میں لڑ رہے ہیں مگر ہماری باہمی لڑائی سے آپ کو کوئی غلط نہی نہیں ہونی چاہئے ۔ اگر آپ نے اس طرف رخ کیا تو سب سے پہلا جرنیل جو حضرت علی کی طرف سے آپ کے مقابلہ کیلئے نکلے گا وہ میں ہوں گا ۔ گویا اُنہوں نے اعلان کیا کہ میں اُسی وقت اپنی بادشاہت کا دعوئی چھوڑ دوں گا اور حضرت علی کے ماتحت ہو کر تمہارے مقابلہ کیلئے نکل کھڑا ہوں گا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ روم کے بادشاہ نے مسلمانوں پر چڑھائی کرنے کا ارادہ ترک کر دیا۔ پس اختلافات بے شک ہوتے ہیں خاوند اور بیوی میں بھی اختلاف ہوتا ہے باپ اور بیٹے میں بھی اختلاف ہوتا ہے مگر یہ اختلافات ایک حد تک ہوتے ہیں۔ اِس وقت پاکستان ایسے حالات میں سے گزر رہا ہے کہ ہم کو اپنے وہ تمام اختلافات جو قومی شیرازہ کو بکھیرنے کا موجب ہو سکتے ہیں قطعی طور پر فراموش کر دینے چاہئیں ۔ مذہبی امور میں اگر ہمارا آپس میں اختلاف ہو تو یہ بالکل اور چیز ہے اور قومی اتحاد اور چیز ہے ہمیں اس وقت اپنے تمام اختلافات کو بھلا کر دنیا پر یہ واضح کر دینا چاہئے کہ مسلمان خواہ کسی قوم اور کسی فرقہ سے تعلق رکھنے والا ہو۔ رئیس ہو یا فقیر، مزدور ہو یا سرمایہ دار دشمن کے مقابلہ میں ایک اور قطعی طور پر ایک ہے۔ اگر پاکستان کی طرف کسی نے نظر بداُ ٹھائی تو ہمارا ہر مرد ، ہر عورت ، ہر بچہ اور ہر بوڑھا اپنے آپ کو قربان کر دیگا اٹھائی تو ہر مرد ہر ہر اور ہر کوقبر مگر وہ اپنی آزادی کھونے کیلئے کبھی تیار نہیں ہوگا ۔ اگر دنیا پر ہم اپنے اس عزم کو واضح کر دیں تو میرے نزدیک نوے فیصدی اس بات کا امکان ہے کہ اگر کوئی پاکستان پر حملہ کرنے کی خواہش بھی رکھتا ہے تو نہیں کرے گا ۔ مسلمانوں میں بے شک اور کئی قسم کی کمزوریاں پائی جاتی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کا یہ فضل ہے کہ مسلمان ابھی جان دینے سے اتنا نہیں ڈرتا جتنا بعض دوسری قو میں ڈرتی