انوارالعلوم (جلد 19) — Page 501
انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۰۱ سیر روحانی (۴) بیان فرمایا ہے وہ فرماتا ہے ۔ وَأَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ فَمَنْ يَسْتَمِعِ الْآنَ يَجِدُلَهُ شِهَابًا رَّصَدًا ۔ یعنی اس سے پہلے تو ہم آسمان سے سننے کی جگہوں پر بیٹھا کرتے تھے مگر اب تو جو شخص بھی آسمان کی باتیں سننے کے لئے جاتا ہے اس پر آسمان سے ایک ستارہ گرتا ہے ۔ یہاں بھی وہی مضمون بیان کیا گیا ہے جو اس سے پہلی آیات میں بیان کیا جا چکا ہے یعنی جب شرارت کرنے والے دین کی باتیں بگاڑ کر پیش کرتے ہیں اور لوگوں کو غلط فہمیوں میں مبتلاء کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی شرارتوں کے انسداد کے لئے آسمان سے ایک نور نازل کرتا ہے مسلمانوں نے غلطی سے ان آیات کا یہ مفہوم سمجھ لیا ہے کہ شیطان آسمان پر جاتا ہے اور وہ خدا تعالیٰ کی باتیں سُن لیتا ہے، حالانکہ قرآن کریم نے متعدد مقامات میں اس حقیقت پر روشنی ڈالی ہے اور بتایا ہے کہ شیطان آسمان کی باتیں سُن نہیں سکتا اس نے یہاں تک کہا ہے کہ إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ " شیطان آسمانی کلام کے سننے کی طاقت ہی نہیں رکھتے کیونکہ خدا تعالیٰ نے انہیں ان باتوں کے سننے سے محروم کیا ہو ا ہے ، اسی طرح قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے أَمْ لَهُمْ سُلَّم يَسْتَمِعُونَ فِيهِ فَلْيَاتِ مُسْتَمِعُهُمْ بِسُلْطَنٍ مُّبِينٍ ها کیا ان کے پاس کوئی ایسی سیڑھی ہے جس کے ذریعہ سے وہ آسمان پر جا کر خدا تعالیٰ کی باتیں سن سکتے ہیں ؟ اگر ان میں کوئی اس امر کا مدعی ہے کہ وہ آسمان پر گیا اور اس نے خدا تعالیٰ کی باتیں سنیں تو وہ اپنے دعوئی کا ثبوت پیش کرے۔ کفار اور منافقین کی عادت ان آیات سے ظاہر ہے کہ آسمان پر جا کر باتیں سننا تو الگ رہا وہاں تک کسی کے جانے کی اہلیت بھی قرآن کریم نے تسلیم نہیں کی ۔ پس در حقیقت اس جگہ آسمانی باتیں سننے کے معنے یہ ہیں کہ گفتار اور منافقین کی عادت یہ ہے کہ وہ سچے دین کی باتوں کو اس نقطہ نگاہ سے سنتے ہیں اور اس لئے ان کو سیکھتے ہیں کہ وہ ان سے نئے نئے اعتراض پیدا کریں گے اور ان میں اپنی طرف سے جھوٹ ملا کر لوگوں کو برانگیختہ کریں گے ۔ یہ معنے نہیں کہ وہ عرش پر جا کر اللہ تعالیٰ کی باتوں کو سُن لیتے ہیں ،