انوارالعلوم (جلد 19) — Page 500
انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۰۰ سیر روحانی (۴) کیونکہ آپ صرف نبی ہی نہیں بلکہ خاتم النبین بھی ہیں اور آپ کی نبوت قیامت تک زندہ ہے۔ ہی بلکہ خاتم اب جو شخص بھی دین کے احیاء کے لئے مبعوث ہو گا وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام ہوگا ، آپ سے الگ ہو کر اور آپ کی غلامی سے انکار کرتے ہوئے کوئی شخص اس منصب پر فائز نہیں ہو سکتا ۔ آسمانی باتیں سننے کے معنے اس جگہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کریم نے تو یہ فرمایا ہے کہ جب کوئی میری باتیں سنتا ہے یا آسمان کی باتیں سنتا ہے تو اس پر ایک شہاب گرتا ہے جو اُسے تباہ کر دیتا ہے، حالانکہ قرآن کریم نے ہی آسمانی باتوں کے سننے کا ہم کو حکم دیا ہے پھر یہ کہنا کہ جو آسمانی باتیں سنتا ہے اس پر ستارہ گرتا ہے ایک بے معنی سی بات ہو جاتی ہے۔ اس سوال کے متعلق یہ امر یاد رکھنا چاہئے کہ یہاں خالی آسمان کی باتیں سننے کا ذکر نہیں بلکہ اِسْتَرَقَ السَّمْعَ کا ذکر ہے اِسْتَرَقَ ، سَرَقَ سے نکلا ہے جس کے معنے چوری کے ہوتے ہیں اور اور اسْتَرَقَ السَّمْعَ کے معنی چوری چھپے سننے کے ہیں ۔ پس اس آیت کے معنی یہ یہ ہیں ہیں کہ کہ وہ شخص جو الہی جماعت میں داخل ہو کر اس کے کلام کو کُھلے بندوں سنتا ہے ، جماعت حقہ میں اپنے آپ کو شامل کر لیتا ہے اور اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ وہ دین کی اشاعت کرے اور بھولے بھٹکوں کو راہِ راست پر لائے وہ اللہ تعالیٰ کی تائید سے حصہ لیتا ہے لیکن وہ لوگ جن کی غرض یہ ہوتی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی باتوں کو سننے کے بعد انہیں بگاڑ کر پیش کریں اور لوگوں کو دھوکا اور فریب میں مبتلاء کریں یا وہ منافق جو اس لئے کسی سلسلہ میں داخل ہوتے ہیں کہ اُس مشن کو نقصان پہنچائیں اور آسمانی کلام کے اُلٹ پلٹ معنی کر کے لوگوں میں بے ایمانی پیدا کریں ، ان کیلئے آسمان سے ہمیشہ ایک شہاب گرا کرتا ہے، ایسے لوگ جب بھی کسی فتنہ کیلئے کھڑے ہوتے ہیں اور ان کا فتنہ ایسا رنگ اختیار کر لیتا ہے جو دین کیلئے ضعف کا موجب ہو تو ہمیشہ اللہ تعالی کسی ما مور یا مصلح یا مجد د وقت کو ان کی بیخ کنی کیلئے کھڑا کر دیتا ہے جو شہاب بن کر ان پر گرتا ہے اور منافقت کفر و ارتداد کے خیالات کا قلع قمع کر دیتا ہے۔ شرارتوں کا قلع قمع کرنے کیلئے آسمانی تدبیر اس حقیقت کو اللہ تعالی نے سورۃ جن میں بھی