انوارالعلوم (جلد 19) — Page 452
انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۵۲ قیام پاکستان اور ہماری ذمہ داریاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کے دن تجھے حوض کوثر ملے گا۔ تو اونٹ کی قربانی کر ، تیرا دشمن لا ولد رہے گا۔ یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے کہتے ہیں ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ ٹے آنکھ نہ پہلی بات کا دوسری سے تعلق ہے نہ دوسری کا تیسری سے تعلق ہے اور نہ ساری باتیں آپس میں مل کر کوئی مفہوم پیدا کرتی ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس جگہ کوثر کے یہ معنی ہی نہیں بلکہ اس جگہ اللہ تعالٰی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتا ہے کہ انا اعطيتكَ الْكَوْثَر اے محمد رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے تجھے ہر کام میں وسعت بخشی ہے ہم تمہاری جماعت کو بھی بڑھائیں گے، ہم تمہاری تعلیم کو بھی بڑھائیں گے ، ہم تمہاری روحانی برکات کو بھی بڑھائیں گے، ہم تمہارے جسمانی رعب کو بھی بڑھائیں گے، ہم تمہارے نفوس اور اموال میں بھی برکت دیں گے اور یہ تمام ترقیات تجھے عطا کرتے چلے جائیں گے ۔ فصل لربك لیکن یاد رکھو جب کسی شخص کو اس طرح وسعت ملتی ہے دنیا میں اس کے حاسد بھی پیدا ہو جاتے ہیں ۔ جب بھی کسی کو عزت ملے گی ، جب بھی کسی کو رتبہ ملے گا اُس کے حاسد ضرور پیدا ہو جائیں گے اور یہ ایک ایسا قانون ہے جو ہمیں تمام دنیا میں نظر آتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ترقیات کا ذکر کرتے ہی فرمایا کہ جب تجھے ایسا مقام حاصل ہوگا تیری تعلیم بھی برتر ہوگی ، تیرا عمل بھی برتر ہوگا، تیری جماعت بھی برتر ہوگی اور ہر روز تجھے ہماری طرف سے ترقیات پر ترقیات حاصل ہوتی چلی جائیں گی تو تیرے ارد گرد کے رہنے والے اور رشتہ دار تجھ پر حسد کریں گے اور وہ سمجھیں گے کہ اب یہ ہمیں کھانے لگا ہے، ہمیں اس کا مقابلہ کرنا چاہئے ۔ ان حاسدوں کا علاج یہ ہے کہ فَصَلِّ لِرَبِّكَ تو خدا سے دعائیں کر کہ وہ ان حاسدوں کے حسد سے تجھے بچائے۔ چنانچہ اسی وجہ سے دوسرے مقام پر قرآن کریم نے یہ دعا سکھلا دی کہ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ مِن شَرِّ مَا خَلَقَ وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ وَمِن شَرِّ النَّفْثَتِ فِي الْعُقَدِ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إذَا حَسَدٌ " گویا فصل لربك میں تو حاسدوں کے حسد کرنے سے بچنے کیلئے صرف دعا کرنے کی تعلیم دی گئی تھی اور سورۃ فلق میں وہ دعا سکھا بھی دی جوان کے حسد سے بچنے کے لئے ضروری تھی ۔ اس کے بعد فرماتا ہے دا نحر اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! تو قربانی کر۔ یہاں