انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 451 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 451

انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۵۱ قیام پاکستان اور ہماری ذمہ داریاں و انحر کے معنی یہ کئے جاتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ کی قربانیاں کر دیں اس خوشی میں کہ آپ کو جنت میں کوثر عطا ہوگا ۔ اس میں میں کوئی شبہ نہیں کہ حدیثوں لہ حدیثوں سے پتہ چلتا ہے کہ جنت میں ایک چشمہ ہوگا جس کا نام کوثر ہوگا ۔ اے مگر سوال یہ ہے کہ یہاں جو کوثر کا لفظ ہے اس کے یہ معنی ہو سکتے ہیں یا نہیں ۔ ہمیشہ مضمون کے سیاق وسباق سے انسان سمجھا کرتا ہے کہ کسی لفظ کے کیا معنی ہیں ۔ مثلاً اردو میں ٹکٹ کا لفظ بولا جاتا ہے ٹکٹ ڈاک کا بھی ہوتا ہے ریل کا بھی ہوتا ہے عدالت کا بھی ہوتا ہے اور تاگے کا بھی ہوتا ہے۔ گویا لفظ تو ایک ہے مگر چار مختلف معنوں پر استعمال ہوتا ہے اگر ڈاکخانہ کے سامنے کھڑے ہو کر کوئی شخص کہے کہ مجھے ایک آنے کا ٹکٹ دے دو اور کلرک اُسے پلیٹ فارم کا ٹکٹ دے دے تو تم اُسے کیسا نا معقول انسان سمجھو گے۔ یا ریلوے اسٹیشن پر جا کر کوئی شخص ٹکٹ مانگے اور کلرک اسے لفافوں پر لگانے والا ٹکٹ دیدے تو ہر شخص اُسے احمق قرار دے گا۔ یا تم بساطی کی دُکان پر جاتی ہو اور کہتی ہو کہ ٹکٹ دے دو تو اگر وہ تا گا کے ٹکٹ کی بجائے تمہیں عدالتی ٹکٹ دے دے تو تم اس کی حماقت پر مسکراؤ گی ۔ اسی طرح کوثر کے بے شک یہ بھی معنی ہیں اور حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک چشمہ عطا کیا جائے گا جس کا نام کوثر ہوگا ۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس آیت میں کو نسے معنے لگتے ہیں ۔ یہاں الفاظ یہ ہیں کہ اے رسول ! ہم نے تجھے کوثر عطا کیا ہے اس لئے تو دعا ئیں کر اور قربانیاں کر، تیرا دشمن لا ولد رہے گا ۔ اب سوال یہ ہے کہ قیامت میں ملنے والے کوثر سے دشمن کے لا وَلَد رہنے کا کیا تعلق ہے یا اگلے جہاں میں کوثر ملنے پر اس جہان میں اونٹ ذبح کرنے کا کیا فائدہ ہے؟ پھر تاریخ سے یہ کہیں ثابت نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوثر ملنے کی خوشی میں اونٹ ذبح کئے ہوں ۔ بے شک چشمۂ کوثر والی بات ٹھیک ہے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس آیت میں جس کوثر کا ذکر آتا ہے اس سے کیا مراد ہے ۔ جو معنی عام طور پر کئے جاتے ہیں اس سے آیات کا جوڑ آپس میں ملتا ہی نہیں ۔ یہ بالکل ان ملی اور بے جوڑ سی بات معلوم ہوتی ہے اور کسی معمولی عقل والے انسان کی طرف بھی منسوب نہیں کی جاسکتی کجا یہ کہ اسے خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جائے کہ اے محمد