انوارالعلوم (جلد 19) — Page 145
انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۴۵ صلی الله رسول کریم ﷺ کی زندگی کے تمام اہم واقعات کی بھی وہی حالت ہوگئی جو دوسرے مسلمانوں کی تھی۔ چنانچہ ایک موقع پر جب ان سے کسی نے دوسرے کی سے پوچھا کہ کیا آپ کو اسلام لانے پر دشمنوں کی طرف سے تکلیفیں نہ دی جاتی تھیں؟ تو انہوں نے سے تو جواب دیا کہ مجھے بھی کئی دفعہ دشمنوں نے مارا تھا مگر باقی مسلمان تو خاموشی کے ساتھ مار کھا لیتے مارکھا تھے اور میں اُن کا مقابلہ کرتا تھا اور کبھی مار کھا لیتا تھا اور کبھی مار بھی لیتا تھا ۔ کھالیتا لیتا تھا۔ صلى الله صلى الله عروسه پھر کفار مکہ کی مخالفت اور تیز ہوئی اور انہوں نے ایک میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا کہ جس طرح بھی ہو سکے محمد ( ﷺ ) کو ابو طالب کی حفاظت اور ہمددری سے محروم کر دیا جائے کیونکہ ہم ابوطالب کی وجہ سے محمد (ﷺ) کو کچھ کہ نہیں سکتے اور ابوطالب کے لحاظ کی وجہ سے ہمیں محمد کا بھی لحاظ کرنا پڑتا ہے اس لئے اس معاملہ کو ابو طالب کے سامنے پیش کیا جائے اور کہا جائے کہ یا تو تم اپنے بھتیجے کو سمجھاؤ ورنہ اُس کی حفاظت اور ہمدردی سے دست بردار ہو جاؤ اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو ساری قوم تمہاری مخالف ہو جائے گی اور تمہیں اپنا سردار تسلیم کرنے سے انکار کر دے گی۔ یہ پہلا نوٹس تھا جو ابو طالب کو دیا جانے والا تھا اس سے پہلے انہیں سردارانِ قریش کی طرف سے اس قسم کا کوئی نوٹس نہ دیا گیا تھا۔ غرض قریش نے اپنے نے اپنے بڑے بڑے سرداروں صلى الله کا ایک وفد ابو طالب کے پاس بھیجا اور کہا کہ آپ ہماری قوم میں معزز ہیں اس لئے ہم آپ سے یہ درخواست کرنے آئے ہیں کہ آپ اپنے بھتیجے کو سمجھائیں کہ وہ ہمارے بتوں کو بُرا بھلا نہ کہا کرے ہم نے آج تک بہت صبر کیا ہے مگر اب ہم مزید صبر نہیں کر سکتے ہمیں رجـــــس ، پلید ، شَرُّ الْبَرِيَّه ، سُفَهَاء اور وریت شیطان کہا جاتا ہے اور ہمارے بتوں کو جہنم کا ایندھن قرار دیا جاتا ہے پس یا تو آپ محمد (ﷺ) کو سمجھائیں اور اسے ان ان باتوں سے باز رکھیں ورنہ ہم آپ کو بھی اپنی لیڈری سے الگ کر دیں گے ۔ ابوطالب کے لئے یہ موقع نہایت نازک تھا وہ اپنی قوم میں نہایت معزز سمجھے جاتے تھے اور لوگ انہیں اپنا لیڈر تسلیم کیا کرتے تھے اور لیڈری کی خاطر بعض اوقات انسان اپنے عزیز ترین رشتہ داروں اور بیٹوں تک کو چھوڑنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔ چنانچہ ابوطالب نے اپنی قوم سے مرعوب ہو کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا اور کہا اے میرے بھتیجے! اب تیری باتوں کی وجہ سے قوم سخت مشتعل ہو چکی ہے اور اب معاملہ اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ قریب ہے کہ وہ لوگ کوئی سخت قدم اُٹھائیں جو تمہارے لئے اور میرے لئے