انوارالعلوم (جلد 19) — Page 144
انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۴۴ صلى الله رسول کریم ﷺ کی زندگی کے تمام اہم واقعات پردے دور ہونے شروع ہو گئے۔ جب وہ اس آیت پر پہنچے کہ انَّنِي أَنَا اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِي ، وَأَقِمِ الصَّلوةَ لذكري كلا کہ ان کا سینہ کھل گیا اور انہوں نے کہا یہ تو عجیب کلام ہے مجھے جلدی بتاؤ کہ محمد رسول اللہ کہاں ہیں میں ان پر ایمان لانا چاہتا ہوں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُن دنوں دار ارقم میں تشریف رکھتے تھے آپ کو پتہ بتایا گیا اور وہ سیدھے اس مکان کی طرف چل پڑے مگر حالت یہ تھی کہ ابھی ننگی تلوار اُن کے ہاتھ میں تھی ۔ حضرت عمرؓ نے دروازہ پر دستک دی تو صحابہ نے جھانک کر دیکھا کہ باہر کون ہے ۔ انہیں جب عمر کی شکل نظر آئی اور یہ بھی دیکھا کہ انہوں نے تلوار سونتی ہوئی ہے تو وہ گھبرائے کہ کہیں کوئی فساد پیدا نہ ہو جائے مگر حضرت حمزہ جو اُس وقت تک اسلام لا چکے تھے انہوں نے کہا ڈرتے کیوں ہو دروازہ کھولوا اگر عمر اچھی نیت سے آیا ہے تو خیر ورنہ اسی تلوار سے ہم اس کی گردن اڑا دیں گے۔ چنانچہ دروازہ کھولا گیا اور عمر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھتے ہی فرمایا عمر ! کسی نیست سے آئے ہو؟ اُنہوں نے کہا يَا رَسُولَ الله! ایمان لانے کے لئے ۔ یہ سن کر آپ نے خوشی سے الله اكبر کہا اور ساتھ ہی صحابہؓ نے اس زور سے نعرہ تکبیر بلند کیا کہ دور دور تک مکہ میں اس کی آواز گونج اُٹھی ۔ ۱۸ اب دیکھو عمر تو اس ارادہ اور نیت کے ساتھ اپنے گھر سے نکلے تھے کہ میں آج محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر کے دم لوں گا مگر اُس وقت خدا تعالیٰ عرش پر بیٹھا ہوا کہہ رہا تھا کہ آليْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَه کیا خدا اپنے بندے کی حفاظت کے لئے کافی نہیں؟ چنانچہ وہی عمر جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مارنے کے لئے اپنے گھر سے نکلا تھا اسلام کی تلوار سے خود گھائل ہو گیا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں ہمیشہ کے لئے داخل ہو گیا۔ حضرت عمر کے اسلام لانے کے بعد وہ عبادتیں جو پہلے چھپ کر ہوا کرتی تھیں سر عام ہونے لگیں۔ خود حضرت عمر د لیری کے ساتھ کفار میں پھرتے تھے اور ان سے کہتے تھے کہ اگر تم میں سے کسی کے اندر طاقت ہے تو میرے سامنے آئے مگر کسی شخص کو اُن کے سامنے آنے کی جرات نہیں ہوتی تھی لیکن حضرت عمر کا یہ رعب صرف چند دن ہی رہا بعد میں حضرت عمر