انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 568 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 568

انوار العلوم جلد ۱۸ ۵۶۸ نیکی کی تحریک پر فوراً عمل کرو کہ یہاں جو کھجوریں کافی ہیں خریدنے کی کیا ضرورت ہے یہیں سے کیوں نہ کھا لوں ۔ یہ سوچ کر وہ باغ کے اندر گھس گیا اور کھجور کے درخت پر چڑھ گیا اور چڑھ کر کھجوریں کھاتا رہا۔ جب سیر ہو گیا تو نیچے اُترنے کا ارادہ کیا مگر مشکل یہ پیش آئی کہ کھجور پر چڑھنا تو آسان ہوتا ہے اُترنا بہت دشوار ہوتا ہے جب اُس نے اُترنے کا ارادہ کیا اور نیچے دیکھا تو ہوش اُڑ گئے کیونکہ زمین بہت دور نظر آتی تھی ، کا اپنے لگ گیا اور گھبرا کر نیت کی کہ اگر میں صحیح سلامت نیچے اُتر گیا تو خدا کی راہ میں ایک اونٹ قربان کروں گا ۔ یہ نیت کر کے آنکھیں بند کر لیں اور اُترنا شروع کر دیا جب وہ تھوڑ اسا اُتر چکا آنکھیں کھول کر دیکھا تو زمین پہلے سے ذرا نزد یک نظر آئی۔ اس پر دل میں کہنے لگا میں نے اونٹ کی قربانی کا وعدہ کرنے میں سخت غلطی سے کام لیا ہے اور اونٹ کی قربانی ہے بھی بہت زیادہ اس لئے میں قربانی تو ضرور دوں گا لیکن اونٹ کی بجائے گائے کی قربانی دوں گا ۔ یہ کہہ کر پھر آنکھیں بند کیں اور اُترنا شروع کیا۔ تھوڑا اور اُتر کر نیچے دیکھا تو زمین اور بھی نزد یک نظر آئی کہنے لگا بات یہ ہے کہ گائے کی قربانی بھی زیادہ ہے اس لئے گائے تو نہیں بکری ضرور دوں گا ۔ یہ کہہ کر تھوڑا اور نیچے اُترا، اب وہ دو تہائی کے قریب اُتر چکا تھا اس نے نیچے دیکھا جب زمین بالکل قریب نظر آئی تو ڈھارس بند گئی اور کہنے گلا دراصل اتنی سی بات کے لئے بکری کی قربانی بھی زیادہ ہے اس لئے میں بکری تو نہیں مرغی ضرور دوں گا یہ کہ کر پھر ا تر نا شروع کیا تھوڑا اُتر کر جو نیچے دیکھا تو معلوم ہوا کہ اب زمین تو ایک چوتھائی سے بھی کم رہ گئی ہے اُس نے اطمینان کا سانس لیا اور کہنے لگا بھلا اتنی سی بات کے لئے کوئی مرغی کرتا پھرتا ہے۔ قربانی ہی کرنا ہے تو ایک انڈا کافی ہے یہ کہہ کر پھر اُترنے لگا اور جب اُس کے قدم زمین پر آ لگے تو اسے انڈے کی قربانی بھی بوجھل معلوم ہوئی ۔ سرحد کے پٹھان قصبات میں نہیں رہتے بلکہ پہاڑوں کے اندران کے جھونپڑے ہوتے ہیں اور چونکہ پانی کی قلت ہوتی ہے اس لئے ایک دفعہ جو شلوار پہنی گئی تو وہ اُس وقت اُترتی ہے جب اُس کا تانا بانا الگ الگ ہو جاتا ہے اور جوؤں کی اتنی کثرت ہوتی ہے کہ شلوار کے اندر سر کے بالوں سے بھی ان کی آبادی گنجان ہوتی ہے چنانچہ پٹھان نے اپنے نیفے سے ایک جوں نکالی اور مار کر کہنے لگا جان کے بدلے جان چلو قربانی ہوگئی ۔ قربان