انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 567 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 567

انوار العلوم جلد ۱۸ ۵۶۷ نیکی کی تحریک پر فوراً عمل کرو من گندم خرید لوں تو مجھے ایک ماہ کے بعد اتنے نفع کی امید ہو سکتی ہے۔ یا کوئی شخص ملازمت میں ہوتا ہے تو وہ دفتر کی فائلوں کی چھان بین میں گم ہو جاتا ہے یا کوئی پیشہ ور ہوتا ہے تو وہ اپنے کارخانہ میں پہنچ کر اپنے کام میں ایسا محو ہو جاتا ہے کہ نیکی کے جذبات اس کے دماغ سے نکل جاتے ہیں۔ انسانی حالت کے یہ دور طبعی دور ہیں ۔ گو ان پر خدا تعالیٰ کا قانون حاوی ہوتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر انسان پر چوبیس گھنٹے ایک ہی حالت رہی اور ایک ہی قسم کے جذبات کا دباؤ رہا تو وہ مر جائے گا۔ لیکن ہم ان ادوار کا نام طبعی اس لئے رکھتے ہیں کہ یہ انسان کے اپنے پیدا کئے ہوئے ہوتے ہیں اور اس کے اپنے ماحول کی وجہ سے یہ حالتیں اُس پر آتی ہیں کیونکہ جس شخص نے کوئی ملازمت کی ہوئی ہے وہ اس کی اپنی تجویز کردہ ہے اور پیشہ ور کا پیشہ اس کا اپنا اختیار کردہ ہے۔ اسی طرح دُکاندار کی دُکانداری اس کی اپنی پیدا کردہ ہے ان دوروں میں پڑ کر انسان کبھی تو نیکی کی طرف مائل ہو جاتا ہے اور کبھی بدی کی طرف ۔ کوئی شخص ایسا ہوتا ہے کہ وہ نیکی کا دور پا کر اس سے فائدہ اُٹھا تا ہے اور اس کو غنیمت سمجھتے ہوئے بڑے شوق سے نیکیاں بجالاتا ہے مگر کوئی ایسا ہوتا ہے جس پر نیکی کا دور تو بے شک آتا ہے مگر وہ اپنے تساہل کی وجہ سے اس موقع کو ضائع کر دیتا ہے کیونکہ وہ ایسے دور کے آنے پر یہ سوچنے لگ جاتا ہے کہ ابھی بڑا موقع ہے کر ہی لیں گے۔ پہلے چل کر آٹھ آنے کے آلو لے لوں تا کہ کل بارہ آنے بن سکیں یا اپنا فلاں کام کرلوں بعد میں نیکی کرلوں گا۔ اس وقت کے گزر جانے پر اس کی نیکی کی حالت بے شک وہی رہے گی مگر حالات بدل جانے کی وجہ سے یہ توفیق اس سے چھن جائے گی ۔ مثلاً ایک شخص پر نیکی کا دور آیا اور اس نے اپنی غفلت اور سستی سے اُس کو ملتوی کر دیا تو ہو سکتا ہے کہ کا اور بعد میں وہ نیکی کی خواہش کے باوجود نیکی نہ کر سکے کیونکہ ممکن ہے کہ اس کی ملازمت جاتی رہے یا اس کی تجارت تباہ ہو جائے ۔ پھر بعض انسان ایسے ہوتے ہیں کہ ان پر نیکی کا دور آتا تو ہے مگر نیکی کرنے سے پہلے ان کی نیت میں فرق آ جاتا ہے اور وہ نیکی سے محروم ہو جاتے ہیں ۔ ہمارے ملک میں ایک لطیفہ مشہور ہے کہتے ہیں کوئی پٹھان ایسے علاقہ میں چلا گیا جہاں کھجوروں کے درخت تھے اس کے اپنے ملک میں تو کھجور ہوتی نہ تھی دوسرے پھل ہوتے تھے اُس نے کسی باغ میں کھجوروں کے درخت اور ان پر کھجوریں پکی ہوئی دیکھیں تو دل میں خیال آیا