انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 555 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 555

انوار العلوم جلد ۱۸ ۵۵۵ ہندوستانی الجھنوں کا آسان ترین حل ممالک کے کسی زید اور بکر کو یا ہندوستان کے کسی بڑے لیڈر کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ ہندوستانیوں کے حقوق کے متعلق فیصلہ کرنے بیٹھ جائے اور ہندوستان کی آزادی کے مسئلہ پر بحث کرنے لگ جائے کہ فلاں بات یوں نہیں بلکہ یوں ہونی چاہئے ۔ مگر آجکل ہندوستانیوں کی آئندہ قسمت کا فیصلہ اکثر دوسری اقوام کرنا چاہتی ہیں اور گھر بیٹھے اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہی ہیں گویا وہ یہ سمجھتی ہیں کہ ہندوستانی آزادی کی قدر و قیمت کو نہیں سمجھتے یا ان کے دلوں سے حریت کے متعلق جتنے احساسات اور جذبات ہیں وہ معطل یا مفقود ہو چکے ہیں ۔ انگریز کہہ رہے ہیں کہ ہم نے ہندوستانیوں کے مسئلہ کے حل کے لئے ایک بڑا جری ، بڑا دلیر ، بڑامد بر ، بہت بڑا سیاستدان اور بہت ہی دیانتدار آدمی بھیجا ہے۔ یہ سب کچھ درست ہے لیکن میں کہتا ہوں کہ کیا انگلستان کے عوام الناس اِس بات کو برداشت کر سکتے ہیں کہ ان کی آزادی کے مسائل کے حل کے لئے کوئی مد بر بھیج دیا جائے ۔ وہ یہی کہیں گے کہ ہم خود آزادی کی قدرو قیمت کو سمجھتے ہیں اور ہمارے اندر اتنی اہلیت موجود ہے کہ ہم ان مسائل کو حل کر سکیں جاؤ تم اپنا کام کرو۔ پس جہاں تک آزاد قوموں کا سوال ہے وہ اس قسم کی باتوں کو برداشت کرنے کے لئے کبھی تیار نہیں ہو سکتیں کہ اُن کا فیصلہ کوئی اور کرتا پھرے مگر آج ہندوستانیوں کے متعلق وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے ایک جری ، دلیر، مدبر ، دیانتدار اور سیاستدان جرنیل کو بھیجا ہے جو ہندوستانی لیڈروں سے مل کر ہندوستان کے متعلق فیصلہ کرے گا۔ مگر سوال تو یہ ہے کہ ہندوستان کی قسمت کے فیصلہ میں خود ہندوستانی عوام کا کیا دخل ہو گا ؟ کیا انگلستان کی عورتیں اس بات کو تسلیم کر لیں گی کہ بڑے بڑے مدبر اور سیاستدان لوگ ان کے متعلق یہ فیصلہ کرنے بیٹھ جائیں کہ فلاں عورت فلاں شخص کو اپنا خاوند بنائے گی اور فلاں عورت فلاں کو اپنا خاوند تسلیم کرے گی ؟ کیا انگلستان کے مرد اس بات کو تسلیم کرنے کو تیار ہیں کہ مدبر ، جری اور دلیر لوگ ان کے متعلق یہ فیصلہ کریں کہ فلاں شخص صرف فلاں عورت سے شادی کر سکتا ہے؟ اس کا جواب کبھی مثبت میں نہیں ہو سکتا۔ پھر جب انگلستان، فرانس، جرمن اور امریکہ کی عورتیں یہ برداشت نہیں کر سکتیں کہ دوسرے عقلاء اور مدبر ان کے لئے خاوند تجویز کریں اور خاوند اس بات کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں کہ دوسرے عقلاء اور مدبرین ان کے لئے بیویاں تجویز کریں تو وہ ہندوستان کے لوگوں کے متعلق یہ کس طرح خیال کر