انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 554 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 554

انوار العلوم جلد ۱۸ ۵۵۴ ہندوستانی الجھنوں کا آسان ترین حل جب خود کوئی دعا سکھاتا ہے اور رویا یا الہام میں اپنے بندوں کو اس کی طرف متوجہ کرتا ہے تو اس میں یہ بھید ہوتا ہے کہ وہ اس دعا کو ضرور قبول فرمانا چاہتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بشارت ملی ہے اور امید دلائی گئی ہے کہ اگر ہم خدا تعالیٰ کے حضور اس قسم کی دعائیں مانگیں گے تو وہ ضرور پوری ہوں گی ۔ آج جو جمعرات کا روزہ گزرا ہے یہ سات روزوں میں سے آخری تھا اور جن لوگوں نے پورے روزے رکھے ہیں ان کے روزے آج ختم ہو گئے ہیں ۔ بعض مجبوریوں کی وجہ سے رہ بھی گئے ہوں گے، میرے بھی کچھ روزے سفر کی وجہ ۔ وجہ سے رہ رہ گئے ہیں بہر حال جماع حال جماعت کے جن لوگوں کو خدا تعالیٰ نے توفیق بخشی ہے انہوں نے ساتوں روزے پورے رکھے ہیں اور دعا ئیں بھی کرتے رہے ہیں ، ، ا اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ ہماری دعاؤں کے بدلے میں اپنے فضل نازل فرمائے گا۔ ہندوستان کے موجودہ حالات اس قسم کے ہیں کہ لوگوں کے دلوں میں سکینت اور طمانیت نہیں اور عوام کے اندر سخت بے چینی اور اضطراب پایا جاتا ہے ۔ میں نے جہاں تک ہندوستان کی آزادی کے مسئلہ پر غور کیا ہے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ہندوستانیوں کے ساتھ بھیڑ اور بکری کا سا سلوک ہو رہا ہے۔ جو شخص اُٹھتا ہے خواہ یورپین مد بر ہو یا ہندوستانی لیڈ روہ سمجھتا ہے کہ وہی ایک عقلمند ہے عام ہندوستانیوں کے دماغ معطل ہو چکے ہیں اور پھر ساتھ ہی وہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ وہ جو بھی فیصلہ کرے ہندوستانیوں کو اُسے بلا پس و پیش مان لینا چاہئے اور اُس کے ساتھ ذرا بھی اختلافات رائے رکھنے کی جرات نہ کریں اور وہ یہاں تک دعویٰ رکھتا ہے کہ اُس کا فیصلہ ہندوستانیوں کو ضرور قبول کرنا چاہئے ۔ لیکن میں سمجھتا ہوں جہاں تک حریت کا سوال ہے اس میں تمام دنیا کے انسان برابر ہیں اور حریت ہر شخص کا پیدائشی حق ہے۔ جتنا احساس حریت کا ایک انگریز یا فرانسیسی کو ہے اور جتنا احساس محریت کا ایک جرمن یا امریکن کو ہے اور جتنا احساس محریت کا مسٹر گاندھی اور پنڈت نہرو کو ہے اُتنا ہی احساس ایک عام ہندوستانی کو بھی ہے اور جب ایک عام ہندوستانی کے دل میں بھی اتنا ہی احساس موجود ہے جتنا کہ انگریز ، جرمن ، فرانسیسی یا امریکن کے دل میں یا ایک مقبول عوام ہندوستانی لیڈر کے دل میں تو پھر ان