انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 447 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 447

انوار العلوم جلد ۱۸ ۴۴۷ ہمارے ذمہ تمام دنیا کو فتح کرنے کا کام ہے سے سینئر تھے ہم حضرت خلیفہ اول سے طب پڑھتے تھے ایک دن مطب میں ہم بیٹھے ہوئے تھے حضرت خلیفہ اول ہمیں کوئی طب کی کتاب پڑھا رہے تھے اُس وقت حضرت خلیفہ اول خلیفہ نہ تھے یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کی بات ہے ۔ حضرت خلیفہ اول نے کسی شخص کا پچاس ساٹھ روپے قرض دینا تھا آپ نے عبد الرحمن صاحب کا غانی کو بلایا اور کہا کہ ہاتھ بڑھاؤ یہ روپیہ لے جاؤ اور فلاں آدمی کو جا کر دے آؤ۔ عبد الرحمن صاحب کا غانی نے ہاتھ بڑھایا تو آپ نے وہ روپے اس کے ہاتھ پر رکھ دیئے مگر ہم نے دیکھا کہ روپے لیتے وقت عبدالرحمن صاحب کا غانی کے ہاتھ کانپ رہے تھے اور وہ کچھ متوحش سے نظر آنے لگے ۔ حضرت خلیفہ اول نے کہا دیکھو مسلمانوں کی یہ حالت ہے کہ چونکہ پچاس یا ساٹھ روپیہ انہوں نے کبھی دیکھا نہ تھا اس لئے روپیہ پکڑتے وقت ان کے ہاتھ کانپنے لگے ، صرف اس خیال سے کہ اگر یہ رستہ میں کہیں گم ہو جائے یا گر جائے تو میں اتنا روپیہ کہاں سے ادا کروں گا۔ آپ نے فرمایا ایک ہندو کو بلاؤ اس کو میں اگر ایک لاکھ روپیہ بھی دوں تو وہ دھوتی کے کسی کونے میں دبا کر اطمینان سے لے جائے گا اور اُس کو خیال بھی نہ ہوگا کہ میں کیا لئے جا رہا ہوں ۔ تو ہند واگر بے کا ر بھی ہوگا تو اسے فکر نہ ہو گی مگر اس کے مقابلہ میں ایک مسلمان کو سخت تکلیف کا سامنا ہوگا۔ اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ مسلمانوں نے تجارت جیسے منافع بخش پیشے کو چھوڑ دیا ، اگر مسلمان تجارت کو ہاتھ سے نہ جانے دیتے تو آج یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا ۔ روپیه رسته ۔ انگلستان کی کل آبادی ۴ کروڑ ہے مگر وہ اس وقت ساری دنیا میں تجارت کر رہے اور ساری دنیا پر حکومت کر رہے ہیں ۔ انہوں نے جو کچھ پایا تجارت سے پایا ادھر ہندوستان میں جو آبادی مسلمانوں کی اس وقت ہے وہ انگریزوں سے اڑھائی گنا ہے مگر پھر بھی وہ نہایت ذلت کی زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ وہ نہیں دیکھتے کہ وہ انگلستان سے اڑھائی گنا ہیں ، وہ اپنے دل میں خیال ہی نہیں لاتے کہ وہ فرانس سے پونے تین گئے ہیں ، ان کو کبھی یہ احساس ہی نہیں ہوا کہ وہ سپین سے پونے تین گنے ہیں ، ان کا ذہن کبھی اس طرف گیا ہی نہیں کہ وہ امریکہ کی آبادی کے قریباً برابر ہیں کیونکہ امریکہ کی آبادی تیرہ کروڑ کے قریب ہے اور مسلمانوں کی آبادی دس کروڑ کے قریب ہے گویا آبادی کے لحاظ سے وہ قریباً امریکہ کے برابر ہیں مگر جو سامان اس وقت امریکہ والوں کو