انوارالعلوم (جلد 18) — Page 446
انوار العلوم جلد ۱۸ ۴۴۶ ہمارے ذمہ تمام دنیا کو فتح کرنے کا کام ہے جائیں تو ان کی دولت بڑھتی ہے گھٹتی نہیں ۔ ایک دفعہ ایک وفد جو مولوی محمد اسماعیل صاحب مرحوم اور میر محمد اسحاق صاحب مرحوم پر مشتمل تھا بمبئی گیا وہاں کے بڑے بڑے آدمیوں نے انہیں دعوتیں دیں انہوں نے مجھے اطلاع دی کہ یہاں بمبئی میں بوہرہ قوم کا کوئی آدمی غریب نہیں ہے اور سب کے سب کسی نہ کسی کام پر لگے ہوئے ہیں ۔ جب بوہرہ قوم کے چند لیڈروں سے اس کا سبب پوچھا گیا کہ کیا وجہ ہے کہ بوہرہ قوم کے سب آدمی دولت مند اور آسودہ حال ہیں؟ تو انہوں نے بتایا کہ سوائے اوباش اور بدمعاش کے ہم اپنی قوم کے کسی فرد کو گرنے نہیں دیتے ۔ جب کوئی بوہرہ دیوالیہ ہو جاتا ہے یا اس قابل نہیں رہتا کہ وہ خود کوئی کام کر کے اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکے تو ہم لوگ باہمی مشورہ سے اس کی مدد کا فیصلہ کرتے ہیں ۔ چنانچہ بھی ہم یہ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ ایک مہینہ کے لئے دیا سلائیوں کا اب بیو پار اس کے حوالے کر دیا جائے۔ جس بوہرہ تاجر کے پاس چھوٹے تاجر دیا سلائی کے لئے آتے ہیں وہ ان سے کہہ دیتا ہے کہ آجکل میرے پاس دیا سلائی نہیں فلاں کے پاس ہے اور اس مصیبت زدہ کے پاس بھیجوا دیتے ہیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بغیر ایک پیسہ اپنے پاس سے دینے کے وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جاتا ہے ہمارا کچھ نہیں جاتا کیونکہ ہماری دیا سلائی کی پوری قیمت اس سے وصول ہو جاتی ہے۔ اسی طرح کسی کو مٹی کا تیل یا کوئی اور اسی قسم کی چیز دے دی جاتی ہے مگر کسی کو چندہ اکٹھا کر کے امداد کے طور پر نہیں دیا جاتا کیونکہ اس طرح کام کرنے کی حس مرجاتی ہے اور وہ شخص بیکار ہو جاتا ہے۔ س بیدار ہو جا اسی طرح ہندوؤں میں بھی تنظیم ہے ہندوؤں میں سے اگر کوئی شخص بیکار ہوتو ہو تو وہ کبھی متفکر نہیں ہوتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ پیشے بہت ہیں ایک جگہ نہیں تو دوسری جگہ جا کر کوئی کام شروع کر دوں گا اور اگر دوسری جگہ بھی نہیں تو کہیں اور جا کر کوئی پیشہ اختیار کرلوں گا لیکن اس کے مقابلہ میں مسلمانوں کو دیکھو اگر کوئی مسلمان بے کار ہو جائے تو ایک آدھ جگہ ملازمت کی کوشش کرے گا اگر وہ ناکام رہا تو سوائے بھیک مانگنے کے وہ کسی دوسرے پیشہ کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوگا۔ میں ابھی طالب علم تھا عبد الرحمن صاحب کا غانی مرحوم جن کا اخبارات میں اٹھرا کی گولیوں کا اشتہار چھپا کرتا تھا وہ بھی طالب علم تھے ، وہ مجھ سے پہلے سے پڑھ رہے تھے اس لئے وہ مجھ