انوارالعلوم (جلد 18) — Page xv
انوار العلوم جلد ۱۸ ۱۲ تعارف کتب ارشاد فرمائی ۔ اس تقریر کو سننے کیلئے کئی سو غیر احمدی اور غیر مسلم معززین تشریف لائے اور اُنہوں نے نہایت توجہ اور سکون کے ساتھ حضور کی تقریر کو سنا۔ یہ تقریر پہلی دفعہ مؤرخہ ۱۵ را پریل ۱۹۶۱ء کو روزنامہ الفضل میں شائع ہوئی اور اب یہ انوار العلوم کی اس جلد میں کتابی صورت میں شائع ہو رہی ہے۔ اس تقریر کے بارہ میں اخبار تیج دہلی نے اپنی ۱۴ را کتوبر ۱۹۴۶ء کی اشاعت میں حسب ذیل نوٹ شائع کیا۔ احمدیوں کے امام حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد نے تقریر کرتے ہوئے بتایا کہ امن اور شانتی کا مسئلہ اتنا ہی پرانا ہے جتنا کہ خود انسان ، کیونکہ انسانی فطرت کے ساتھ اس کا نہایت گہرا تعلق ہے۔ اگر اس کا قیام مطلوب ہے تو اس کے لئے جذبہ دشمنی و نفرت کو ختم کرنا پڑے گا ۔ مسئلہ سیاسی نہیں ہے بلکہ اخلاقی ہے اور اگر ہم خدا کی خدائی سے باخبر ہوں اور روٹی کا پیار، لالچ وغیرہ کو چھوڑ دیں تو اس کے بعد ہم میں نفرت اور لالچ کے بجائے برادری اور محبت کے جذبات پیدا ہو سکتے ہیں ۔ مذہبی دنیا کے اختلافات ختم ہو سکتے ہیں بشرطیکہ ہم ایک دوسرے کے جذبات کا احترام کرنا سیکھیں ں اور اپنے اندر قوت برداشت پیدا کریں ۔ جس طرح مذہبی معاملات میں تحمل کی ضرورت ہے ٹھیک اسی طرح دنیا داری کے معاملات میں بھی اس کا ہونا لازمی ہے۔ ہمیں قومیت و رنگ کے جھگڑوں کو ختم کر کے عالمگیر برادری کا جذبہ پیدا کرنا چاہئے ۔ ( الفضل ۲۱ راکتو بر ۱۹۴۶ء ) (۱۹) ہمارے ذمہ تمام دنیا کو فتح کرنے کا کام ہے یہ تقریر حضرت مصلح موعود نے دہلی سے قادیان کو واپسی سے ایک روز قبل ۱۳ اکتوبر ۱۹۴۶ ء کو جماعت احمد یہ دہلی کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمائی جو حضور کی زندگی کا دہلی میں آخری خطاب ثابت ہوا۔ حضور نے اس موقعہ پر نہایت مفید اور قیمتی نصائح ارشاد فر مائیں آپ نے فرمایا کہ:۔