انوارالعلوم (جلد 17) — Page 107
انوار العلوم جلد ۱۷ ۱۰۷ اسوه حسنه پھر بعض دفعہ آپ گھر جاتے اور بستر پر آپ کو کوئی کھجور پڑی ہوئی نظر آتی تو اُسے کھانے لگتے مگر پھر خیال آتا کہ یہ کھجور کہیں صدقہ کی نہ ہو ، ایسا نہ ہو کہ میں غریبوں کا حق کھا جاؤں چنانچہ آپ کھجور کو اسی طرح رکھ دیتے اور اپنے منہ میں نہ ڈالتے ۔ اسی طرح حدیثوں میں آتا ہے ایک دفعہ صدقہ کی کچھ کھجوریں آئیں ۔ حضرت حسن اور حضرت حسین آپ کے دونوا سے تھے اور یہ دونوں آپ کو بہت پیارے تھے کیونکہ آپ کی اور کوئی اولاد نہ تھی ان دونوں کی اُس وقت دو دو تین تین سال کی عمر تھی ان میں سے حضرت حسن نے آتے ہی ایک کھجور اپنے منہ میں ڈال لی ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو فوراً حضرت حسن کے منہ میں سے کھجور نکال لی اور فرمایا یہ تمہاراحق نہیں یہ دوسروں کا حق ہے۔ ۲۲ اب میں وہ اخلاق جو دوسرے لوگوں کے ساتھ تعلق رکھنے کے دوران میں انسان سے ظاہر ہوتے ہیں اُن کی بعض مثالیں بیان کر دیتا ہوں ۔ سب سے پہلے میں اخلاق فاضلہ میں سے خلاق فاضلہ میں بلند ترین مقام رسول کی لا اله الا الا اعلام الصوری علیہ وسلم کے وہ اخلاق بیان کرتا ہوں جو میرے نزدیک تمام اخلاق کی کنجی ہیں اور جن کا اس روایت میں ذکر آتا ہے جس میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی اُس گواہی کا ذکر ہے جو انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے متعلق دی ۔ حدیثوں میں آتا ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی نازل ہوئی تو اس خیال سے کہ اتنا بڑا کام میں کس طرح کر سکوں گا ۔ ایسا نہ ہو میں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے میں کامیاب نہ ہو سکوں آپ سخت گھبرائے اور اسی گھبراہٹ کی حالت میں آپ اپنی بیوی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے ۔ اُس وقت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو تسلی دی اور یہ الفاظ کہے کہ كَلَّا وَ اللَّهِ لَا يُخْزِیكَ اللَّهُ أَبَدًا (1) إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ (۲) وَتَحْمِلُ الْكَلَّ (۳) وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ (۴) وَتَقْرِي الضَّيْفَ (۵) وَتُعِيْنَ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ ۴۳ یعنی آپ گھبرائیں نہیں ۔ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ آپ نا کام ہو جائیں ۔ آپ کے اندر پانچ عظیم الشان خصلتیں پائی جاتی ہیں اور ان نیک خصلتوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ