انوارالعلوم (جلد 17) — Page 73
انوار العلوم جلد ۱۷ ۷۳ اسوه حسنه رہنا چاہئے ۔ اگر ہماری تصویر اُس کے مطابق ہو تو پھر بے شک ہم خوش ہو سکتے ہیں اور خیال کر سکتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن ہماری شفاعت کریں گے۔ لیکن اگر ہماری تصویر اور محمد رسول اللہ ﷺ کی تصویر میں کوئی مشابہت ہی نہ ہو تو پھر رسول کریم ﷺ کی صلى الله شفاعت کی اُمید رکھنا صریح غلطی اور نادانی ہے۔ صلى الله عروسه مسلمانوں میں شفاعت کی غلط تشریح میرے نزدیک یہ بالکل غلط خیال ہے مستحق شفاعت جو مسلمانوں میں پایا جاتا ہے کہ گنہگار اند رسول کریم ﷺ کی شفاعت کے گنہگار مستحق نہیں ہوں گے بلکہ آپ کی شفاعت کے مستحق عل صلى الله صلى الله وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے محمد رسول اللہ ﷺ کا کچھ نقش اپنے اندر لے لیا اور وہ نقش ایسا ہوا کہ قیامت کے دن رسول کریم ﷺ اُسے دیکھ کر اللہ تعالیٰ سے کہہ سکیں کہ اے میرے خدا! یہ بھی مجھ سے ملتے جلتے ہیں میں ان کی شفاعت کرتا ہوں ورنہ یہ تو سرا سرا ظلم ہے کہ ایک شخص دوسرے سے کسی رنگ میں بھی مشابہت نہ رکھتا ہو اور وہ کہے کہ یہ مجھ سے ملتا جلتا ہے۔ یہ مان لیا کہ ایک شخص دوسرے سے اپنے تمام خدو خال میں مشابہت نہ رکھتا ہومگر یہ تو ہوسکتا ہے کہ اُس کی آنکھیں دوسرے کی آنکھوں سے ملتی جلتی ہوں یا اُس کے ہاتھ دوسرے کے ہاتھ سے ملتے جلتے ہوں یا اُس کی آواز دوسرے کی آواز سے ملتی جلتی ہو لیکن ایسا تو نہیں ہو سکتا کہ کسی شخص میں مشابہت کی کوئی بات بھی نہ پائی جاتی ہو اور اُس کے متعلق یو نہی کہہ دیا جائے کہ وہ فلاں سے ملتا جلتا ہے۔ یہ تو ویسی ہی بات ہو گی جیسے بچپن میں میرے ایک عزیز کو مجھ سے کچھ رقابت تھی میں اُن کا نام نہیں لیتا اُن کی ہمیشہ یہ عادت تھی کہ میں جو بات بھی کہتا وہ ضرور اُس کے خلاف کہتے خواہ وہ کس قدر ہی معقول کیوں نہ ہوتی ۔ اور میرے ایک اور عزیز تھے اُن کی یہ عادت تھی کہ جب وہ میرے خلاف کہتے وہ ہمیشہ اُس کی تصدیق کیا کرتے اور کہتے کہ ہاں یہ بالکل درست ہے اُس وقت ہم مدرسہ میں پڑھا کرتے تھے۔ ایک دن میرے وہی عزیز آئے اور کہنے لگے میں تو روس کا جب بھی نقشہ دیکھتا ہوں مجھے خواجہ جمال الدین صاحب انسپکٹر جموں یاد آ جاتے ہیں جو خواجہ کمال الدین صاحب کے بھائی تھے کیونکہ مجھے وہ بالکل خواجہ جمال الدین صاحب