انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 72

انوار العلوم جلد ۱۷ ۷۲ اسوه حسنه خدا تعالیٰ نے ہر نبی کو معرفت کا جو پیالہ پلایا اُن میں سے ہر ایک پیالہ مجھے بھی پلایا گیا گیا ہے اور خوب بھر بھر کر پلایا گیا ہے۔ یہ تو ہو سکتا ہے کہ کسی پہلے نبی کو جو جام پلایا گیا ہو وہ چھوٹا ہو مگر مجھے وہی جام دیا گیا تو وہ خوب بھرا ہو اتھا۔ یہی وہ مقام ہے جس پر پہنچ کر انسان کو اس زمانہ میں ظلی نبوت حاصل ہوتی ہے۔ یعنی وہ ظل محمد بن جائے تب نبی بنتا ہے۔ ظل موسیٰ یا ظل عیسی بننے سے نبوت کا مقام حاصل نہیں کر سکتا ۔ وہ صلى الله غرض تمام زمانوں میں نیکی اور اخلاق کامل کے معیار ان زمانوں کے وہ انبیاء تھے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوئے ۔ نبی خدا کا نمونہ ہوتا ہے پس جو شخص نبی کا نمونہ بن جائے ہ نیک سمجھا جاتا ہے اور جو نبی کا نمونہ نہیں ہوتا اُسے نیک نہیں سمجھا جاتا۔ اس زمانہ میں اگر کوئی نیکی کا راستہ ہے تو محمد رسول اللہ ﷺ کی تصویر اپنے دل و دماغ پر کھینچنے میں ۔ پس اس زمانہ میں جو شخص محمد رسول اللہ ﷺ کا نمونہ بن جائے اور آپ کی تصویر اپنے دل پر کھینچ لے وہی شخص مومن یا نجات یافتہ یا با اخلاق سمجھا جا سکتا ہے ۔ اس تمہید کے بعد اب میں محمد رسول اللہ علی کے اخلاق میں سے کچھ باتیں بیان کرتا ہوں تا ہر شخص جو اپنے دل پر جمالِ الہی کا نقش کرنا چاہے وہ اس سے فائدہ اُٹھا سکے ۔ صلى الله علوسه صلى الله در حقیقت ایک مسلمان کے لئے یہ وہم کرنے کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ رسول کریم کے نمونہ کو اپنے سامنے رکھے بغیر وہ کوئی روحانی مقام حاصل کر سکتا ہے ۔ اگر کوئی شخص ایسا خیال کرتا ہے تو وہ اول درجہ کی حماقت کا ارتکاب کرتا ہے ۔ ہم کوئی کمال حاصل نہیں کر سکتے جب تک محمد رسول اللہ ﷺ کی تصویر ہمارے سامنے نہ ہو اور اس تصویر کو ہم اپنے دل پر نہ کھینچ لیں ۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم بار بار اپنی بنائی ہوئی تصویر کو محمد رسول اللہ ﷺ کی تصویر کے ساتھ صلى الله محمدرسول کی صویر کے ساتھ ملائیں اور دیکھیں کہ وہ اصل کے مطابق ہے یا نہیں ۔ کوئی زائد لکیر ہو تو اُسے مٹا دیں ، کوئی پھیکا رنگ ہو تو اُسے تیز کر دیں ، کوئی زیادہ تیز رنگ ہو تو اُسے ہلکا کر دیں، پھر بار بارا سے اصل کے ساتھ ملائیں اور دیکھیں کہ وہ دونوں تصویر میں آپس میں کس حد تک مشابہہ ہوگئی ہیں ۔ غرض ہماری ۔ زندگی کی تمام جدوجہد ، تمام کوشش اور تمام سعی صرف اس کام کے لئے ہو کہ ہم محمد رسول اللہ کی تصویر اپنے قلوب پر کھینچ لیں ۔ پس ہمیں ہر وقت محمد رسول اللہ ﷺ کی تصویر کو دیکھتے